Al-Risala · February 2005 · page 22

فطرت کا حصہ

الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۲۲

اسی طرح کامل یقین کر لیتا ہے جس طرح ایک بچہ اپنی ماں کے وجود پر کامل یقین رکھتا ہے۔ حالاں کہ اس نے بھی اپنے آپ کو ماں کے پیٹ سے نکلتے ہوئے نہیں دیکھا۔

خدا اور آخرت کا معاملہ صرف اس وقت تک منطقی بحث کا موضوع رہتا ہے جب تک کہ آدمی کے ذہن کا مصنوعی پردہ بنا نہ ہو۔ غور وفکر یا منطقی استدلال کے ذریعہ جب یہ پردہ ہٹ جائے تو انسان اپنے خدا کو خود اپنی داخلی معرفت کے تحت پہچان لیتا ہے۔ اب خدا اس کے لیے تمام معلوم چیزوں سے زیادہ معلوم واقعہ بن جاتا ہے۔ منطقی دلیل کا کام صرف یہ ہے کہ وہ انسان کو فطرت کے دروازے تک پہنچادے۔ فطرت کا دروازہ کھلتے ہی انسان خدا کو اس طرح پاللیتا ہے جیسے کہ وہ پہلے ہی سے اس کو جانتا تھا۔

انسان کی آنکھ پر پٹی بندھی ہوئی ہو تو ضرورت ہوتی ہے کہ سورج کے وجود کو اس کے لیے دلائل سے ثابت کیا جائے۔ لیکن جب آنکھ کی پٹی ہٹادی جائے تو اس کے بعد سورج کو ماننے کے لیے اسے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہی معاملہ خدا کا ہے۔ خدا کا شعور انسان کی فطرت میں آخری حد تک سمایا ہوا ہے۔ اصل ضرورت صرف فطرت کا پردہ ہٹانے کی ہے۔ دلیل کے ذریعہ جب فطرت کا پردہ ہٹادیا جائے تو انسان خدا کو اس سے بھی زیادہ یقین کے ساتھ دیکھنے لگتا ہے جتنا کہ ایک کھلی آنکھ والا انسان آفتاب کو۔

سیرتِ رسول مولفہ وحید الدین خاں یہ کتاب سیرتِ رسول کا ایک سادہ اور واقعاتی مطالعہ ہے۔ اس کتاب میں پیغمبر اسلام کی زندگی کو تاریخ وار انداز میں کسی تشریح یا تعبیر کے بغیر بیان کیا گیا ہے۔

یہ پیغمبرِ اسلام ﷺ کی پوری زندگی کی ایک تاریخی تصویر ہے۔ یہ معلوماتی اسلوب میں سیرتِ رسول کا ایک جامع تعارف ہے۔ پوری کتاب اسی بیانیہ اسلوب میں لکھی گئی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues

Printed page