Al-Risala · February 2005 · page 25

وقت کی پابندی

الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۲۵

وقت کی پابندی

ایک اسکول کے ٹیچر کا واقعہ ہے۔ اُن کا گھر اسکول سے کچھ فاصلہ پر تھا۔ اُن کا معمول تھا کہ وہ گھر سے اسکول تک کا یہ فاصلہ رکشہ کے ذریعہ طے کرتے تھے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک رکشہ والے سے معاملہ طے کر رکھا تھا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ رکشہ والا چند منٹ دیر سے پہنچا۔ مذکورہ ٹیچر وقت پر اپنے گھر سے نکلے اور جب انہوں نے رکشہ والے کو نہیں دیکھا تو انہوں نے طے کیا کہ وہ دوڑتے ہوئے اپنے اسکول جائیں گے۔ چنانچہ وقت پر اپنے گھر سے نکل کر دوڑتے ہوئے وہ اپنے اسکول کی طرف روانہ ہو گئے۔ کچھ دیر کے بعد رکشہ والا آیا۔ وہ تیزی سے رکشہ چلاتا ہوا ٹیچر کے پاس پہنچا اور کہا کہ آئیے رکشہ پر بیٹھ جائیے۔ مگر ٹیچر بدستور دوڑتے رہے۔ وہ آگے چل رہے تھے اور رکشہ اُن کے پیچھے ۔ اسی حال میں چلتے ہوئے وہ اسکول پہنچے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رکشہ والے نے دوبارہ کبھی تاخیر نہ کی ۔ وقت کی پابندی اتنی زیادہ اہم ہے کہ جس آدمی کے اندر وقت کی پابندی کی صفت نہ ہو وہ کبھی کوئی بڑا کام نہیں کر سکتا۔ اس سلسلہ میں اصل ضرورت یہ ہے کہ آدمی وقت کے بارہ میں حساس ہو۔ وقت کو ضائع کرنے والے وہی لوگ ہیں جو وقت کے بارہ میں حساس نہ ہوں۔ جو آدمی وقت کی اہمیت کو جانتا ہو وہ اس معاملہ میں کبھی کوئی عذر پیش نہیں کرے گا۔ وہ ہر صورت حال میں اپنے وقت کو منظم کرنے میں کامیاب رہے گا۔ وقت کی پابندی کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ ملے ہوئے وقت کو بھر پور طور پر استعمال کیا جائے۔

بعض لوگ وقت کی تنگی کی شکایت کرتے ہیں ۔ یہ بے معنی عذر ہے۔ اصل مسئلہ وقت کی تنگی نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ سوچ کی تنگی ہے۔ جس آدمی کا شعور اس معاملہ میں زندہ ہو وہ اپنے اوقات کی تنظیم اس طرح کرے گا کہ وہ کم وقت میں بھی زیادہ کام کر سکے۔ اسی حقیقت کو اسماعیل میرٹھی نے اپنے شعر میں اس طرح بیان کیا ہے:

وقت میں تنگی فراخی دونوں ہیں جیسے ربڑ کھینچنے سے بڑھتی ہے ، چھوڑے سے جاتی ہے سکڑ

‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues

Printed page