اپنے کام سے کام
الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۲۶
اپنے کام سے کام
تقریبا پانچ سال پہلے دہلی میں میری ملاقات ایک مسلم نوجوان سے ہوئی۔ انہوں نے کمپیوٹر انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے۔ اُن کے دورشتہ داروں کے ساتھ میں اُن کے گھر پر ملا۔ اُس وقت وہ ایک سرکاری ملازمت کر رہے تھے۔ ہم لوگ تقریباً ایک گھنٹہ تک وہاں رہے۔ اس پورے وقت میں میں نے یہ محسوس کیا کہ یہ نوجوان نہ صرف اپنے فن میں ایکسپرٹ ہے بلکہ اُس کے اندر ایک انوکھی صفت ہے۔ اس صفت کو ایک لفظ میں کہہ سکتے ہیں، اپنے کام سے کام۔ اُسی وقت میرے دل میں یہ بات آئی تھی کہ یہ نوجوان ضرور اعلیٰ ترقی کرے گا۔
۱۶ اکتوبر ۲۰۰۴ کے اخبار میں یہ خبر پڑھی کہ مذکورہ نوجوان کو ایک بین الاقوامی ادارہ میں وائس چیرمین کی جگہ پر فائز کیا گیا ہے۔ اس وقت اُن کی عمر تقریباً ۳۷ سال ہے۔ اپنے کام سے کام کوئی سادہ بات نہیں۔ اپنے کام سے کام کا مطلب اپنے وقت اور اپنی طاقت کو بچانا ہے۔ اپنے آپ کو اس قابل بنانا ہے کہ صلاحیتیں مفید طور پر استعمال ہوسکیں ۔ اپنے وقت اور اپنی صلاحیت کا کوئی جزئی حصہ بھی کسی غیر ضروری کام میں ضائع نہ ہونے پائے۔ جس آدمی کے اندر اپنے کام سے کام کا مزاج ہو وہ دوسروں کے لیے آخری حد تک قابلِ قبول انسان بن جائے گا۔ وہ دوسروں کے خلاف نہیں بولے گا۔ وہ دوسروں کے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔ وہ دوسروں کے ساتھ اسی حالت میں تعاون کرنے پر راضی ہو جائے گا جس حالت میں کہ وہ ہیں۔ اسی طرح دوسرے بھی اُس کے ساتھ اسی حالت میں تعاون کرنے پر راضی ہو جائیں گے جس حالت میں کہ وہ خود ہے۔
لوگ اُس انسان کو پسند کرتے ہیں جو دوسروں کے لیے مسئلہ پیدا کئے بغیر اپنا کام کرے اور جو آدمی اپنے کام سے کام رکھے وہ دوسروں کے لیے اسی قسم کا ایک پسندیدہ انسان بن جائے گا۔ اپنے کام سے کام رکھنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ زندگی کا ایک کامیاب اصول ہے۔ جو آدمی اس
‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues