Al-Risala · February 2005 · page 39

کامیاب زندگی

الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۳۹

کامیاب زندگی

ہر آدمی کامیاب ہونا چاہتا ہے۔ مگر ایسے لوگ بہت کم ہیں جن کو حقیقی معنوں میں کامیابی حاصل ہو۔ اس فرق کا سبب یہ نہیں ہے کہ کچھ لوگ خوش قسمت ہیں اور کچھ لوگ بد قسمت۔ پیدا کرنے والے نے کسی بھی مرد یا عورت کو بد قسمت پیدا نہیں کیا۔ خدا کے کارخانہ سے ہر آدمی خوش قسمت ہی بنا کر پیدا کیا جاتا ہے۔ اسی حقیقت کو الطاف حسین حالی نے ایک آیت کے حوالہ سے اس طرح بیان کیا ہے: خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا حالت کو بدلنے کا خیال کرنا کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ غیر جانب دارانہ طور پر اپنی حالت کا اندازہ کریں۔ اس کے بعد ممکن مواقع کو دریافت کریں اور یہ جانیں کہ ان مواقع کو استعمال کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ یہی کامیابی کا آغاز ہے۔ کامیابی پہلے درجہ شعور میں حاصل کی جاتی ہے، اس کے بعد وہ درجہ عمل تک پہنچتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بے شعوری بھی اتنی ہی مہلک ہے جتنی کہ بے عملی۔ جو آدمی شعور کی صلاحیت سے خالی ہو وہ گویا اس قابل ہی نہیں کہ معاملات میں درست رائے قائم کر سکے۔ اپنی بے شعوری کی بنا پر وہ معاملات میں غلط رائے قائم کرے گا اور غلط قسم کے اقدامات کرے گا۔ اور حقائق کی اس دنیا میں غلط اقدام کبھی درست نتیجہ تک پہنچنے والا نہیں۔ اس دنیا میں باشعور آدمی ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے اور بے شعور آدمی ہمیشہ ناکام۔

اس دنیا کو خدا نے اپنے مقرر نقشہ کے مطابق بنایا ہے۔ اس دنیا میں خدا کا ابدی قانون نافذ ہے۔ اس قانون کے مطابق ہی کسی کو یہاں کامیابی یا ناکامی حاصل ہوتی ہے۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اس قانون فطرت کو سمجھے اور اس کی رعایت کرتے ہوئے اپنے عمل کا نقشہ بنائے۔ جو لوگ ایسا کریں وہی حقیقت پسند لوگ ہیں، اور جو لوگ حقیقت پسند ہوں اُن کے لیے اس دنیا میں کامیابی اتنی ہی یقینی ہے جتنا کہ رات کے بعد دن کا آنا یا شام کی تاریکی کے بعد دوبارہ اگلی صبح کو روشنی کا ظاہر ہونا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues

Printed page