حقیقت پسندانہ مزاج
الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۳۸
حقیقت پسندانہ مزاج
زندگی میں میابی کے لیے سب سے زیادہ اہم چیز حقیقت پسندانہ مزاج ہے۔ محض اپنی ذاتی امنگوں کے تحت میدانِ میں کود پڑنا جذباتیت ہے، اور جذباتیت کسی کے لیے ناکامی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ اس کے برعکس خارجی حالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اقدام کرنا حقیقت پسندی ہے، اور حقیقت پسندی کا کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ یہ اصول فرد کے لیے بھی صحیح ہے اور جماعت کے لیے بھی۔ ان دونوں قسم کے اقدامات کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ پہلا اقدام جذباتی اقدام ہے، اور دوسرا اقدام منصوبہ بند اقدام۔ منصوبہ بند اقدام کے لیے سب سے زیادہ اہمیت صبر و تحمل کی ہے۔ آدمی کی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ اُس کے اندر وہی جذ بہ بھڑک اُٹھتا ہے جو اُس کو اقدام کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ مثلاً حسد، حرص، غصہ، انتقام، وغیرہ۔ اس قسم کے احساسات آدمی کو جذباتی اقدام پر ابھارتے ہیں۔ یہ ایک جذباتی طوفان کا لمحہ ہوتا ہے۔ اُس وقت جو چیز آدمی کو غلط اقدام سے بچاتی ہے، وہ صبر وتحمل کی صفت ہے۔
صبر وتحمل کا یہ فائدہ ہے کہ وہ آدمی کو ہیجانی کیفیت سے بچائے۔ وہ انسان کے اندر اعتدال پیدا کرکے اس کو اس قابل بنائے کہ وہ غیر متاثر ذہن کے تحت سوچ سکے۔ وہ غیر جانب دارانہ جائزہ کے تحت اپنا فیصلہ لے سکے۔ وہ آدمی کے اقدام کو نتیجہ خیز اقدام بنائے۔
جذباتیت یہ ہے کہ آدمی اشتعال انگیزی پر مشتعل ہو جائے۔ کوئی غصہ دلائے تو وہ اُس سے انتقام لینے کے در پے ہو جائے۔ کوئی شوق اس کے اندر ابھرے تو سوچے سمجھے بغیر وہ اس کی طرف چھلانگ لگا دے۔ اس کے برعکس حقیقت پسندی یہ ہے کہ آدمی اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہو۔ کوئی خواہش اُس کے اندر ابھرے تو وہ ایسا نہ کرے کہ وہ حالات کو نظر انداز کرکے اپنی خواہش کو پورا کرنے کی طرف دوڑ پڑے۔ جذباتیت کا نتیجہ عجلت پسندی ہے۔ اس کے مقابلہ میں حقیقت پسندی سے یہ مزاج بنتا ہے کہ آدمی جو کام کرے وہ اس کو بھر پور جائزہ لینے کے بعد کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues