نہ کرنا بھی کام ہے
الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۴۲
نہ کرنا بھی کام ہے
عام طور پر لوگ صرف کرنے کو کام سمجھتے ہیں ۔ حالاں کہ بعض اوقات یہ بھی کام ہوتا ہے کہ کچھ نہ کیا جائے۔ بولنے کے بجائے خاموشی اختیار کی جائے، اقدام کے بجائے عمل سے پرہیز کیا جائے، وار کا جواب دینے کے بجائے وار کو خالی جانے دیا جائے۔
جنگل کے جانور فطرت کی تعلیم کے تحت ایسا ہی کرتے ہیں کہ جب وہ کوئی طوفان دیکھتے ہیں تو وہ زمین پر لیٹ جاتے ہیں ۔ اس طرح وہ طوفان کو یہ موقع دیتے ہیں کہ وہ ان سے ٹکرائے بغیر آگے بڑھ جائے۔
اصل یہ ہے کہ کام بسائے کا نام کوئی چیز نہیں۔ کام وہ ہے جو نتیجہ رخی (result-oriented) کام ہو۔ وہی کام حقیقی کام ہے جو مثبت نتیجہ برآمد کرے۔ جو کام اپنے نتیجہ کے اعتبار سے بے فائدہ ہو یا جس کام کا الٹا نتیجہ نکلے وہ کام نہیں بے نتیجہ کام کرنا کام کرنا نہیں ہے بلکہ وہ کام کو بگاڑنا ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ بولنے سے پہلے سوچا جائے۔ عمل کرنے سے پہلے صورت حال کا جائزہ لیا جائے ۔ اقدام کرنے سے پہلے اس کی منصوبہ بندی کی جائے ۔ دانشمند آدمی کرنے سے پہلے سوچتا ہے۔ وہ شخص نادان ہے جو سوچے بغیر عمل کے میدان میں کود پڑے اور جب اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلے تو وہ دوسروں پر اس کا الزام دینے لگے۔ بغیر سوچے ہوئے کوئی کام کرنا ایسا ہی ہے جیسے کشتی کے بغیر سمندر میں داخل ہو جانا۔
حقیقت یہ ہے کہ مجرد حرکت کوئی کام نہیں، حرکت کو با مقصد ہونا چاہئے۔ یہی انسان کی انسانیت کے مطابق ہے۔ جب ایک آدمی کسی مفید کام کو انجام دے تو اس نے اپنے انسان ہونے کی حیثیت کو ثابت کیا اور جب ایک شخص ایک ایسا کام کرے، جس کا کوئی مفید نتیجہ نہ نکلے تو اس نے گویا اپنے انسان ہونے کی حیثیت ہی کو مشتبہ بنا دیا۔ حقیقی انسان وہ ہے جو نتیجہ خیز کام کرے، بے نتیجہ کام کرنے والا سرے سے انسان ہی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues