تعلیمی پیغام
الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۴۳
تعلیمی پیغام
جموں کشمیر میں ایک قدیم تعلیمی ادارہ ہے جس کا نام مسلم ایجوکیشن ٹرسٹ ہے۔ اس ادارہ کے تحت مسٹر خورشید بمل اور ان کے ساتھیوں نے ۳۱ اکتوبر ۱۹۷۶ کو تھنہ منڈی میں ایک اسکول قائم کیا۔ یہ اسکول ترقی کر کے اب ایک بڑا ادارہ بن گیا ہے۔ یکم نومبر ۲۰۰۴ کو اس ادارہ کا ۲۹ واں فاؤنڈیشن ڈے منایا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس ادارہ کو مزید ترقی دے۔ وہ نئی نسل کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کا ذریعہ بنے۔ تعلیم بلاشبہ تمام ضروری چیزوں میں سب سے زیادہ اہم چیز ہے۔ تعلیم نہ صرف دنیوی زندگی کو درست کرنے کے لیے ضروری ہے بلکہ فارسی شاعر کے الفاظ میں، خدا کی معرفت بھی علم کے بغیر نہیں ملتی: که بے علم نتواں خدا را شناخت۔
علم کے ذریعہ آدمی زندگی کا سلیقہ سیکھتا ہے۔ علم کے ذریعہ اس کو ماضی اور حال کی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ علم کے ذریعہ وہ مواقع اور امکانات کو جانتا ہے۔ علم آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے عمل کی نتیجہ خیز منصوبہ بندی کرے۔ علم کے ذریعہ آدمی صحیح اور غلط کی پہچان حاصل کرتا ہے۔ علم کے ذریعہ آدمی جانتا ہے کہ جذباتیت اور حقیقت پسندی میں کیا فرق ہے۔
علم کے ذریعہ آدمی کو وہ چیز حاصل ہوتی ہے جس کو آرٹ آف ڈیفرنس مینجمنٹ (art of difference management) کہا جاتا ہے۔ علم آدمی کو وہ شعور دیتا ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے سماج کا صحت مند ممبر بنے۔ علم سے آدمی کو وہ بصیرت حاصل ہوتی ہے جس کے ذریعہ وہ تخریبی اقدام اور تعمیری اقدام کے فرق کو جانے۔ علم آدمی کو یہ صلاحیت عطا کرتا ہے کہ وہ ممکن اور ناممکن میں تمیز کر سکے، وہ ناممکن کو چھوڑ کر ممکن میں اپنی طاقت کو لگائے۔
علم انسان کو مکمل انسان بناتا ہے۔ علم سے آدمی اپنے آپ کو پہچانتا ہے اور خدا کو بھی۔ علم کے ذریعہ دین میں بھی ترقی حاصل ہوتی ہے اور دنیا میں بھی۔ علم انسان کو حیوانیت سے اٹھا کر حقیقی انسان کے درجہ تک پہنچاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues