تعلیمی پیغام
الرسالہ، فروری ۲۰۰۵، صفحہ ۴۵
۶۔ انڈین ایکسپریس (بمبئی) کے نمائندہ سویتا رامن جن (Sweta Ramanujan) نے ۱۸ نومبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ہندوستانی مسلمان کے موضوع پر تھا۔ جوابات کے دوران بتایا گیا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی تصویر جو میڈیا میں آتی ہے وہ واقعہ کے مطابق نہیں۔ آج کل مسلمانوں میں بڑے پیمانہ پر تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اسی کے ساتھ اُن کے جذباتی رویے میں بہت زیادہ کمی آئی ہے۔ اب وہ زمانہ کے تقاضوں کو سمجھنے لگے ہیں۔
۷۔ ایک پروگرام کے تحت صدر اسلامی مرکز نے سہارن پور کا سفر کیا۔ یہ سفر ۱۹۔ ۲۰ نومبر ۲۰۰۳ کو ہوا۔ اس سلسلہ میں سہارن پور میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مختلف پروگرام ہوئے۔ ایک پریس کانفرنس بھی ہوئی۔ اس سفر کی روداد انشاء اللہ سفر نامہ میں شائع کر دی جائے گی۔
۸۔ انڈیا انٹرنیشنل سینٹر (نئی دہلی) میں ۲۲ نومبر ۲۰۰۲ کو انٹر نیشنل سمٹ ہوئی۔ اس کا موضوع یہ تھا: Transcending Religious Boundaries اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور مذکورہ موضوع پر اسلام کی روشنی میں خطاب کیا۔ یہ پورا پروگرام انگریزی زبان میں تھا۔
۹۔ بی بی سی لندن کی نمائندہ مز سیما چشتی نے ۲۳ نومبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس سے تھا کہ مذہبی ادارے کو کس طرح چلایا جائے۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مذہبی ادارہ کو وہی حیثیت دی جائے جو آج کل یونیورسٹی کو حاصل ہے۔ یونیورسٹی اسٹیٹ کے ماتحت ہوتی ہے۔ مگر موجودہ نظام کے تحت اس کو ایک ایسا ادارہ مانا گیا ہے جس کو مکمل اندرونی خود مختاری حاصل رہتی ہے۔ یہی ماڈل مذہبی اداروں کے لیے بھی درست ہے۔
۱۰۔ سہارن پور میں نیشنل میڈیکل کالج کے نام سے ایک تعلیمی ادارہ قائم ہوا ہے۔ اس کا افتتاح ۲۸ نومبر ۲۰۰۲ کو ہوا۔ اس تقریب میں شرکت کے لیے صدر اسلامی مرکز کو دعوت دی گئی تھی۔ چنانچہ وہ ۲۷ نومبر کو سہارن پور گئے اور ۲۸ نومبر کو واپسی ہوئی۔ اسی دوران افتتاحی تقریب کے علاوہ کئی پروگرام ہوئے۔ ان پروگراموں میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک تھے۔ ۲۷ نومبر کی شام کو ایک پریس کانفرنس بھی ہوئی۔ اس پریس کانفرنس میں اکثر اخباروں کے نمائندے شریک تھے۔ اس سفر کی روداد ماہنامہ الرسالہ میں انشاء اللہ سفر نامہ کے تحت شائع کر دی جائے گی۔ ۱۱۔ ای ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۵ دسمبر ۲۰۰۳ کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو کا موضوع بابری مسجد کا مسئلہ تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ اس معاملہ میں مسلمانوں کے لیے دوسرے تمام آپشن (options) ختم ہو چکے ہیں۔ اب اس معاملہ میں ان کے لیے ایک ہی آپشن ہے۔ وہ یہ کہ جلسہ اور تقریر کا طریقہ چھوڑ دیں اور عدالت جو فیصلہ دے اس کو بلا شرط مان لیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2005 All issues