Al-Risala · April 2006 · page 2

تصوّف اور صوفی ازم

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۲

تصوّف اور صوفی ازم

چند سال پہلے امریکا کے ایک سفر میں مجھے ایک صوفی سنٹر کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ نیویارک کے آؤٹ اسکرٹ میں واقع تھا۔ جب میں وہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ اس کے اندر دیوار پر ایک مسلم صوفی کی بڑی تصویر لگی ہوئی ہے اور ریکارڈنگ کے ذریعے کچھ صوفی گیت نشر ہو رہے ہیں۔ یہ گیت تامل زبان میں تھے۔ لیکن وہ اتنی پر سوز اور سریلی آواز میں تھے کہ وزٹر تامل زبان کو نہ جانتے ہوئے بھی محو ہو کر اس کو سننے لگتا تھا۔

معلوم ہوا کہ امریکا کے کچھ سفید فام سیاح سری لنکا گئے۔ وہاں سیاحت کے دوران انھوں نے ایک جنگل میں دیکھا کہ ایک نابینا صوفی تامل زبان میں روحانی گیت گا رہا ہے۔ یہ امریکی سیاح اگرچہ تامل زبان نہیں جانتے تھے مگر گانے والے کے پُرسوز لہجے نے ان کو متاثر کیا۔ وہ اس نابینا صوفی کو اپنے ساتھ امریکا لے آئے، اور صوفی سنٹر قائم کر کے اس کو یہاں رکھا۔ یہ سنٹر اب مستقل طور پر صوفیانہ سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ سری لنکا کے یہ صوفی اگر چہ اب مر چکے ہیں لیکن یہاں کے سنٹر میں دیوار پر لگی ہوئی مذکورہ مسلم صوفی کی بڑی تصویر آنے والوں کو اب بھی شدت کے ساتھ اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ ان کے ریکارڈ کیے ہوئے پر اثر گیت یہاں کی فضا میں ہر روز گونجتے رہتے ہیں۔ اس طرح کے تجربات مجھے اپنے بیرونی سفروں میں بار بار پیش آئے ہیں۔ اس سے میں نے اندازہ کیا ہے کہ صوفی ازم کے اندر ایک عالمی اپیل ہے۔ وہ ہر جگہ اور ہر زمانے کے لوگوں کو گہرائی کے ساتھ متاثر کرتا ہے۔ صوفی ازم یا صوفی کلچر انسان کی گہری نفسیات کو چھوتا ہے۔ یہی وجہ ہے جس نے صوفی کلچر کو ایک عالمی حیثیت دے دی۔

صوفی ازم کی ابتدا اسلام کے ظہور کے سو سال بعد، دور اقتدار میں ہوئی۔ اس وقت لوگ بڑی تعداد میں سیاسی اور مادی چیزوں میں مشغول ہو گئے تھے۔ ان حالات میں مسلم صوفیوں نے یہ کوشش کی کہ لوگوں کے اندر روحانی اور انسانی قدروں کو جگایا جائے ۔ چنانچہ انھوں نے یہ کیا کہ سیاسی دائرے سے

‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues

Printed page