Al-Risala · April 2006 · page 3

تصوّف اور صوفی ازم

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۳

باہر اپنی خانقاہیں بنائیں اور ان میں ذکر اور مراقبے کے ذریعے لوگوں کے اندر روحانیت کو بیدار کرنے کی کوشش کی۔

صوفی ازم کی تاریخ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صوفی ازم آٹھویں صدی عیسوی میں اُس وقت پیدا ہوا جب کہ مسلمانوں کو زمین کے بڑے حصے پر اقتدار حاصل ہوگیا۔ اور لوگ بڑی تعداد میں سیاسی اور مادی چیزوں میں مشغول ہوگئے ۔ اس وقت مسلم صوفیوں نے سیاست سے الگ رہ کر یہ کوشش کی کہ وہ مسلمانوں کے اندر از سر نو روحانی بیداری لائیں اور انسانی قدروں کو لوگوں کے اندر پھیلائیں۔ ابتدائی دور کے صوفیوں میں سب سے زیادہ مشہور نام حسن البصری (۶۴۲ - ۷۲۸) کا ہے۔ اُس زمانے میں صوفی ازم ایک سادہ ڈسپلن کا نام تھا۔ یہ لوگ صرف یہ کرتے تھے کہ سیاسی اور مادی سرگرمیوں کے مقابلے میں عبادت اور ذکر جیسی چیزوں کی اہمیت بتاتے تھے۔ وہ لوگوں کو دنیا کی جنت کے مقابلے میں آخرت کی جنت کی طرف متوجہ کرتے تھے۔ وہ کوشش کرتے تھے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ عبادت الہی میں مشغول رہیں۔

دھیرے دھیرے صوفی ازم میں دوسرے طریقے شامل ہونے لگے۔ یہ نئے طریقے، مسلم صوفیوں نے ایران کی قدیم روایات سے لیے۔ جیسا کہ معلوم ہے، اسلام سے پہلے ایران میں مراقبے کے کچھ طریقے رائج تھے۔ مگر اس زمانے میں صوفی ازم کو ایک باقاعدہ منظم قسم کے ادارے کی حیثیت حاصل نہیں تھی۔

اس کے بعد مغل بادشاہ ہمایوں (۱۵۵۶- ۱۵۰۸) کے زمانے میں ایران کے علماء اور صوفیاء بڑی تعداد میں ، غیر منقسم ہندوستان میں داخل ہوئے۔ یہاں انھوں نے جگہ جگہ خانقاہیں قائم کیں۔ اس طرح اُن کا اختلاط ہندوستان کے ہندو جوگیوں اور گروؤں سے ہوا۔ اس اختلاط کے دوران یہ واقعہ پیش آیا کہ ہندو پیشوا مسلم صوفیوں سے متاثر ہوئے اور مسلم صوفی ہندو پیشوا سے متاثر ہوئے۔ اس اختلاط کے دوران صوفی ازم کا ایک نیا ایڈیشن تیار ہوا۔ اس ایڈیشن میں کئی ایسی چیزیں مسلم صوفی ازم میں شامل ہوگئیں جو ہندوؤں کے یہاں عرصے سے رائج تھیں، مگر وہ مسلم صوفی ازم میں

‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues

Printed page