تصوّف اور صوفی ازم
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۶
جاتا ہے۔ یعنی ٹنشن یا اسٹریس والی سوچ کو مخصوص تکنیک کے ذریعے دبانا اور کم ازکم وقتی طور پر انسانی ذہن کو ٹنشن فری بنانا۔ اس معاملے میں ہندو میڈی ٹیشن کا طریقہ جدید دنیا میں کافی مقبول ہوا ہے۔ چنانچہ ۲۰۰۵ کا نوبل پیس پرائز انڈیا کے شری شری روی شنکر کو دیا گیا ہے جو اپنے آرٹ آف لونگ کے لیے مشہور ہیں۔ (ٹائمز آف انڈیا، نئی دہلی، ۲۵ ستمبر ۲۰۰۵)
جدید دور کے صوفی بھی اپنے انداز پر یہ کام کر رہے ہیں۔ وہ ذکر اور مراقبہ (meditation) جیسی تدبیروں کے ذریعے یہ کوشش کرتے ہیں کہ انسان مادی تفکرات سے اوپر اٹھے، اور ذہنی سکون کا تجربہ کرے ۔
مسلم صوفی اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کرتے ہیں۔ مثلاً انسان کو مادی دنیا سے نکال کر خانقاہ کے الگ تھلگ ماحول میں لے جانا، انسان کو ذکر اور مراقبہ جیسے اعمال میں مشغول کر کے اس کے ذہن کو موڑ نا۔ سماع یعنی ساز اور گانے کے ذریعے انسانی ذہن کو ایک تصوراتی دنیا میں لے جانا۔ بعض صوفیا مثلاً ترکی کے درویش ان اعمال میں رقص کو بھی شامل کرتے ہیں۔ میں نے اپنے بعض بیرونی سفروں میں ساز و نغمہ پر رقص کرنے والے صوفیوں کے اس منظر کو خود اپنی آنکھ سے دیکھا ہے۔
صوفی ازم کے مرؤجہ اعمال کے ذریعہ آدمی کو جو داخلی کیفیت ملتی ہے، اس کو مسلم صوفیا وجد (ecstacy) کا نام دیتے ہیں۔ صوفیانہ اعمال کے ذریعے جب کسی انسان کو وجد آتا ہے تو اُس وقت اس کے ذہنی تدبر اور تفکر والے احساسات دب جاتے ہیں۔ اُس وقت وہ اپنے اندر ایک قسم کی بے فکری کا تجربہ کرتا ہے۔ یہ بے فکری اس کو ذہنی سکون دیتی ہے۔
صوفی ازم کا زور جو سائنسی دور سے پہلے تھا وہ اب کسی ملک میں دکھائی نہیں دیتا۔ میرا خیال یہ ہے کہ آج نیو (neo) صوفی ازم کی تحریک چلائی جائے تا کہ صوفی ازم لوگوں کو دورِ جدید سے پوری طرح ریلیوینٹ نظر آنے لگے اور اس طرح صوفی ازم کو دوبارہ عظمت کا وہ مقام مل جائے جو اس کو ماضی میں حاصل تھا (۲۹ ستمبر ۲۰۰۵)
‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues