Al-Risala · April 2006 · page 5

تصوّف اور صوفی ازم

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۵

سلطنت کے زمانے کے مشہور صوفی تھے۔ ان کی کتاب ”فوائد الفوائد“ بہت زیادہ مشہور ہے اور تصوف کے لٹریچر میں اس کی حیثیت مرجع کی سمجھی جاتی ہے۔ انھوں نے اپنی ایک مجلس میں فرمایا کہ عام لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ سیدھے کے ساتھ سیدھا اور ٹیڑھے کے ساتھ ٹیڑھا۔ لیکن ہمارے بزرگوں کا یہ کہنا ہے کہ سیدھوں کے ساتھ سیدھا اور ٹیڑھوں کے ساتھ بھی سیدھا۔ اگر کوئی شخص ہمارے سامنے کانٹا ڈالے اور ہم بھی کانٹا ڈالیں تو کانٹے ہی کانٹے ہو جائیں گے۔ اگر کسی نے کانٹا ڈالا ہے تو تم اس کے سامنے پھول ڈالو۔ پھر پھول ہی پھول ہو جائیں گے۔

بیسویں صدی کے نصف آخر میں صوفی ازم کو ایک نئی اہمیت حاصل ہو گئی۔ صنعتی تہذیب کے ذریعے اس زمانے میں بڑے پیمانے پر مادی ترقیاں ہوئیں، مگر اس کے ساتھ صنعتی کلچر ایک پرابلم بھی لے آیا۔ یہ پرابلم وہی ہے جس کو ٹینشن یا اسٹریس کہا جاتا ہے۔ صنعتی تہذیب نے انسان کی دوڑ دھوپ کا دائرہ بہت زیادہ بڑھا دیا۔ ٹینشن یا اسٹریس اسی کا نتیجہ ہے۔

قدیم زرعی دور میں زندگی کا دائرہ بہت محدود تھا۔ انسان جسمانی اعتبار سے محدود صلاحیت کا مالک ہے۔ زرعی دور میں انسان کی دوڑ دھوپ بھی محدود دائرے میں ہوتی تھی، اس لیے دونوں میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہوتا تھا۔ گویا کہ اس زمانے میں انسانی صلاحیت بھی محدود تھی اور خارجی دنیا میں اس کے مواقع عمل بھی محدود تھے۔ اس لیے زیادہ تر لوگ اپنی زندگی پر مطمئن رہتے تھے۔ وہ ٹینشن اور اسٹریس کا شکار نہیں ہوتے تھے۔

مگر جدید صنعتی دور میں مواقع کار بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ انسان اب بھی محدود پیدا ہورہا تھا مگر اس کو غیر محدود مواقع میں اپنا رول ادا کرنا تھا۔ یہی وہ چیز ہے جس نے موجودہ زمانے میں ذہنی تناؤ یا اسٹریس کے مسائل پیدا کیے ہیں۔ پہلے زمانے کا انسان ہر چیز کو اپنے دائرۂ اختیار کے اندر سمجھتا تھا۔ اب گلوبل ولیج اور ورلڈ کلچر کے نتیجے میں ایسا ہوا کہ انسان بار بار یہ محسوس کرنے لگا کہ حالات کا دائرہ اتنا زیادہ وسیع ہو چکا ہے کہ اس کو اپنے کنٹرول میں رکھنا اس کے لیے ممکن نہیں۔ اس صورت حال نے موجودہ زمانے میں ایک نیا پروفیشن پیدا کیا ہے، جس کو ڈی اسٹریسنگ کہا

‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues

Printed page