Al-Risala · April 2006 · page 8

عورت اور مرد کا فرق

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۸

طور پر ملٹی ٹریک مائنڈ (multi track mind) رکھتی ہے۔

دونوں صنفوں کے درمیان یہ فرق اتنا عام ہے کہ اس کا مشاہدہ ہر گھر میں کیا جا سکتا ہے۔ ہر گھر جہاں عورت اور مرد دونوں رہتے ہوں وہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مرد کا ذہن کسی ایک پوائنٹ پر مرتکز رہے گا۔ جب کہ عورت کا یہ حال ہوگا کہ اس کا ذہن ایک ہی وقت میں کئی چیزوں کی طرف متوجہ رہے گا۔ مثلاً مرد اگر ایک کتاب پڑھ رہا ہے تو اس کا سارا دھیان کتاب میں لگا رہے گا۔ حتیٰ کہ پاس کے کمرے میں اگر ٹیلی فون کی گھنٹی بجے تو وہ اس کو سننے سے قاصر رہے گا۔ حالاں کہ اسی کمرے میں بیٹھی ہوئی عورت دوسرے کمرے میں بجنے والی ٹیلی فون کی گھنٹی کو بخوبی طور پر سن لے گی۔ عورت کے ذہن اور مرد کے ذہن کا یہ فطری فرق بتاتا ہے کہ گواہی کے قانون میں دونوں کے درمیان فرق رکھنے کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ایک واقعہ جس کو عورت اور مرد دونوں دیکھ رہے ہوں اس کو مرد جب دیکھے گا تو وہ اس کو ترکیزی ذہن کے تحت دیکھے گا۔ اس بنا پر وہ اس قابل ہوگا کہ واقعے کے تمام اجزاء اس کے حافظے میں محفوظ ہوسکیں۔ اس کے مقابلے میں عورت اپنے ذہن کی فطری ساخت کی بناپر، غیر ترکیزی انداز میں دیکھے گی۔ اس کے ذہن کا ایک حصہ واقعے کی طرف متوجہ ہوگا اور اس کے ذہن کا دوسرا حصہ کسی اور چیز کی طرف متوجہ ہو جائے گا۔ اس بنا پر ایک گواہ عورت کے ساتھ دوسری گواہ عورت رکھی گئی تا کہ دونوں مل کر واقعے کی پوری تصویر بناسکیں۔ مذکورہ سائنسی تحقیق کی روشنی میں قرآن کی متعلقہ آیت زیادہ قابل فہم بن جاتی ہے۔ یہ آیت قرآن میں اس طرح آئی ہے: واستشهدوا شهيدين من رجالكم فإن لم يكونا رجلين فرجل وامرأتان ممن ترضون من الشهداء أن تضلّ إحداهما فتذكر إحداهما الأخرى (یعنی تم اپنے مردوں میں سے دو مردوں کو گواہ بنالو، اور اگر دو مرد نہ ہوں تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں، اُن لوگوں میں سے جن کو تم پسند کرتے ہو۔ تا کہ اگر ایک عورت ( گواہی دینے میں بھول) چوک جائے تو دوسری عورت اس کو یاد دہانی کرا دے۔ (البقرہ: ۲۸۲)

قرآن کی مذکورہ آیت میں ضلّ کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ ضل کے معنی عربی زبان میں

‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues

Printed page