Al-Risala · April 2006 · page 11

Non-Violence — A Way of Life

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۱۱

کے حالات میں پیس (peace) کے ساتھ رہ سکے۔ پیس فل رویّے کا دوسرا نام نان وائلنس ہے۔ عام طور پر نان وائلنس کو جنگ کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ یعنی متشددانہ لڑائی کے مقابلے میں پر امن مقابلے کا طریقہ۔ مگر یہ نان وائلنس کا بہت محدود مفہوم ہے۔ نان وائلنس کا تعلق پوری زندگی سے ہے اور وہ ٹھیک اُسی وقت سے شروع ہو جاتا ہے جب کہ انسان دنیا میں قدم رکھتا ہے۔ نان وائلنس کا تعلق گھریلو زندگی سے لے کر انٹر نیشنل لائف تک ہے۔

میں پیدائشی طور پر نان وائلنٹ ہوں۔ اس لیے نان وائلنس میرے لیے صرف ایک نظریہ نہیں، بلکہ وہ میرا ذاتی تجربہ ہے۔ میں اپنی پوری زندگی شعوری یا غیر شعوری طور پر نان وائلنس کی زندگی گزارتا رہا ہوں ۔ مجھے یاد ہے کہ بچپن میں کہ میں یوپی کے ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ میری عمر تقریباً ۱۰ سال تھی ۔ میں اپنے گھر کے باہر کھڑا ہوا تھا۔ اتنے میں گاؤں کا ایک بچہ میرے سامنے سے گزرا۔ حسب عادت اس نے مجھے گالی دی۔ میں نے اسے سُنا تو مجھے غصہ نہیں آیا اور نہ میرے اندر انتقام کا جذبہ پیدا ہوا۔ میں نے صرف یہ کہا کہ تم خود! یہ کہہ کر میں اپنے گھر کے اندر چلا گیا۔ میرا یہی رویہ بعد کو میری پوری زندگی میں قائم رہا۔

مثال کے طور پر ۱۹۶۷ء کے بعد انڈیا میں کمیونل رائٹس کا سلسلہ شروع ہوا۔ اخبارات آگ اور خون کے واقعات سے بھرے رہنے لگے۔ تمام لوگ احتجاج اور انتقام کی بولی بول رہے تھے۔ مگر میں کسی منفی ایکشن میں مبتلا نہیں ہوا۔ میں نے اس مسئلے کا یہ سادہ حل پیش کیا کہ مسلمان اپنے مذہب کی تعلیم کے مطابق اعراض (اوائڈنس) کا طریقہ اختیار کریں اور پھر کمیونل رائٹس ختم ہو جائیں گے— یہ اجتماعی نزاع کے معاملے میں نان وائلنس کے طریقے کو اپنانا تھا۔

اسی طرح جب ۲۰۰۳ میں امریکی صدر جارج بش اور عراقی صدر صدام حسین کے درمیان نزاع پیدا ہوئی اور یہ خطرہ پیدا ہوگیا کہ امریکا بمباری کر کے عراق کو تباہ کردے گا تو میں نے اس مسئلے کا یہ حل پیش کیا کہ صدام حسین جنہوں نے فوجی انقلاب کے ذریعہ عراق پر سیاسی قبضہ کیا تھا، وہ صدر کا عہدہ چھوڑ دیں اور پھر امریکا کو عراق کے خلاف تشدد کا موقع نہیں ملے گا—

‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues

Printed page