Al-Risala · April 2006 · page 12

Non-Violence — A Way of Life

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۱۲

یہ انٹر نیشنل معاملے میں نان وائلنس کے طریقے کو اپنانا تھا۔

اسی طرح جب پاکستان کے صدر ضیاء الحق کے زمانے میں کشمیر اور پنجاب میں آزادی کی تحریکیں زور و شور کے ساتھ اٹھیں تو میں نے ۱۹۹۰ میں ہندوستان ٹائمز میں ایک آرٹیکل شائع کیا جس کا عنوان تھا: Acceptance of reality اس آرٹیکل میں بتایا گیا تھا کہ پنجاب اور کشمیر کے لوگ پولیٹیکل اسٹیٹس کو(status quo) کو مان لیں۔ اس مسئلے پر ٹکراؤ کرنے کے بجائے وہ یہ کریں کہ پولیٹیکل اسٹیٹس کے باہر دوسرے میدانوں میں پر امن تعمیر و ترقی کے جو مواقع ہیں اُن کو استعمال کریں جیسا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان نے کیا۔ میری یہ تجویز گویا سیاسی نزاعات کے معاملے میں نان وائلنس کے طریقے کو اپنانا تھا۔ آپ کسی پہاڑ کے دامن میں کھڑے ہوں تو آپ دیکھیں گے کہ پہاڑ کے اوپر برف پگھلنے سے چشمے جاری ہوتے ہیں وہ بہتے ہوئے میدان تک پہنچتے ہیں۔ آپ غور کریں تو درمیان میں بار بار چشمے کے بہاؤ کو ایک مسئلہ پیش آتا ہے وہ یہ کہ اس کے راستے میں بار بار پتھر کے تودے آتے ہیں یہ گویا چشمے کے بہاؤ کے راستے میں رکاوٹیں ہیں۔ چشمہ یہ نہیں کرتا کہ وہ پتھر کو توڑنے کی کوشش کرے تا کہ وہ اپنے سفر کے لیے سیدھا راستہ پا سکے۔ اس کے برعکس چشمہ یہ کرتا ہے کہ وہ پتھر کو اپنی جگہ چھوڑ کر اس کے دائیں یا بائیں سے گزر کر آگے نکل جاتا ہے یہی نان وائلنس ہے۔

نان وائلنس کا مطلب دوسرے لفظوں میں نان کنفرنٹیشن ہے۔ اس دنیا میں نان کنفرنٹیشن اپروچ ہی واحد صحیح اپروچ ہے۔ نان کنفرنٹیشن کا مطلب پسپائی یا بزدلی نہیں ہے۔ یہ دراصل وہی تدبیر ہے جس کو buying time کہا جاتا ہے۔ یعنی اپنے وقت کو بے فائدہ مشغولیت سے بچا کر اس کو نتیجہ خیز کام میں لگانا۔ نان وائلنس یہ ہے کہ آدمی نا پسندیدہ صورت حال کے مقابلے میں منفی رد عمل میں نہ پڑے بلکہ وہ مثبت رد عمل کا طریقہ اختیار کرے۔ نان وائلنس دراصل وائز پلاننگ ہے۔ اس دنیا کی تمام کامیابیاں اسی وائز پلاننگ کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ وائز پلاننگ نہیں تو کوئی کامیابی بھی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues

Printed page