صحیح تدبیر
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۱۶
امریکی اور غیر امریکی مسلمانوں کی یہ پالیسی بلاشبہ عقلی دیوالیہ پن کے ہم معنی تھی۔ اس لیے کہ امریکا کا صدر کون بنے اس کا فیصلہ امریکی ووٹروں کو کرنا تھا نہ کہ مختلف ملکوں میں بسنے والے مسلمانوں کو۔ ایسی حالت میں اصل اہمیت یہ تھی کہ امریکی ووٹروں کے ذہن کو سمجھا جائے اور اس کے مطابق، اپنی منصوبہ بندی کی جائے۔ جارج بش سے نفرت کرنا یا جارج بش کے خلاف لفظی غوغا کرنا ایک ایسی غیر متعلق بات تھی جس کا امریکی الیکشن کے نتائج سے کوئی تعلق نہیں۔ میں ذاتی طور پر اس نظریے کو بالکل بے معنی سمجھتا ہوں کہ کوئی فرد اسلام کا دشمن نمبر ایک ہوتا ہے۔ اور اسلام کی حفاظت کا طریقہ یہ ہے کہ اس فرد کو کسی نہ کسی طرح زیر کر دیا جائے۔ تاہم جو لوگ یہ چاہتے تھے کہ اس الیکشن میں جارج بش کو شکست ہو، انھیں صورت حال کا جائزہ لے کر یہ سمجھنا چاہیے تھا کہ جمہوری نظام کے اعتبار سے کسی امیدوار کو شکست دینے کا طریقہ کیا ہے۔
اصل یہ ہے کہ امریکی انتخاب میں فیصلہ کن حیثیت صرف امریکی ووٹروں کی ہے۔ اب بے لاگ مطالعے کے ذریعے یہ جاننے کی ضرورت تھی کہ امریکی ووٹروں کی سوچ کیا ہے۔ ایک مبصر نے درست طور پر کہا ہے کہ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ کو نیویارک کے ورلڈ ٹاور کے ساتھ جو واقعہ ہوا اس کے بعد امریکی ووٹروں کی ساری سوچ اس واقعے سے جڑ گئی۔ اب امریکی ووٹر یہ سمجھنے لگے کہ وہ خود اپنے ملک میں غیر محفوظ ہیں اور ان کو اس طرح غیر محفوظ بنانے والے وہ لوگ ہیں جن کو وہ مسلم ٹرر سٹ (Muslim terrorist) کہتے ہیں۔ امریکی ووٹروں کی اس سوچ نے ان کے لیے اقتصادی ایشو کو ثانوی اشو بنا دیا اور قومی تحفظ کے اشو کو ان کے لیے نمبر ایک اشو بنا دیا۔ مبصر کے الفاظ میں، وہ اپنے لیے ایک ایسا صدر چاہتے ہیں جو مضبوط اور فیصلہ کن (strong and decisive) شخصیت کا حامل ہو اور عام طور پر امریکیوں کی یہ متفقہ رائے تھی کہ اس صفت کے اعتبار سے جارج بش ان کے لیے قابل انتخاب ہیں نہ کہ جان کیری۔
ایسی حالت میں اگر مسلمان یہ چاہتے تھے کہ جارج بش الیکشن میں ہارے تو انھیں جاننا چاہیے تھا کہ یہ مقصد اس طرح حاصل نہیں ہوسکتا کہ وہ جارج بش کے خلاف براہ راست لفظی غوغا شروع
‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues