Al-Risala · January 2006 · page 15

سیاسی اصطلاحیں

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۱۵

نادرست فیصلے کی اصل ذمے داری دو مسلمانوں پر تھی ۔ شاہ بانو بیگم (مدعیہ ) اور عبد اللہ یوسف علی (مترجم قرآن) ایسی حالت میں اس معاملے میں مسلمانوں کی تحریک کا رُخ شاہ بانو بیگم اور عبد اللہ یوسف علی یا اُن کے ترجمہ قرآن کے ناشر کی طرف ہونا چاہیے تھا نہ کہ سپریم کورٹ کی طرف۔ مگر اس معاملے میں مسلم علماء اور رہنماؤں نے یہ کھلی غلطی کی کہ انھوں نے اپنی پوری تحریک سپریم کورٹ اور حکومت ہند کے خلاف چلا دی ۔ شاہ بانو یا عبد اللہ یوسف علی کے مذکورہ غلط ترجمے سے انھوں نے کوئی تعرض نہیں کیا۔

یہ روش بلاشبہ خلاف عدل تھی۔ چناں چہ انڈیا کے مسلمانوں کو اس غیر عادلانہ روش کی قیمت ادا کرنی پڑی۔ تمام لوگ جانتے ہیں کہ دراصل شاہ بانو تحریک ہی کا یہ نتیجہ تھا کہ انڈیا میں پہلی بار وہ عناصر سیاسی اقتدار پر قابض ہو گئے ، جن کو مسلمان مسلم دشمن عناصر کہتے ہیں ۔ (واضح ہو کہ مسلم دشمن عناصر کا نظریہ راقم الحروف کا نظریہ نہیں۔ راقم الحروف کے نزدیک کوئی بھی ہمارا مستقل دشمن نہیں۔ کیوں کہ قرآن کے مطابق ، دشمن بھی ہمارے لیے امکانی دوست (potential friend) کی حیثیت رکھتا ہے۔ حم السجدہ : ۳۴)

آخری بات یہ کہ غیر عادلانہ تحریک ہمیشہ نقصان کا باعث ہوتی ہے ۔ نتیجے کے اعتبار سے وہ ہمیشہ کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter-productive) ثابت ہوتی ہے۔ مسلمان نہ صرف ہندوستان میں بلکہ پوری دنیا میں اس قسم کے ناعاقبت اندیشانہ تجربے کر چکے ہیں۔ اب آخری طور پر وہ وقت آ گیا ہے کہ اس قسم کی غلطی کو مزید نہ دہرایا جائے کیوں کہ حدیث میں آیا ہے : لا يلدغ المؤمن من جُحرٍ واحدِ مرتین، البخاری (مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا)

‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues

Printed page