سیاسی اصطلاحیں
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۱۴
دونوں ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں۔ مسلمان انڈیا میں دستورِ ہند کو مان کر رہ رہے ہیں۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ فوج داری نوعیت کے کیس میں فتویٰ دینا دستورِ ہند کے مطابق، ملک کے قانونی نظام میں مداخلت ہے۔ اور دستورِ ہند کے مطابق اس قسم کی مداخلت جائز نہیں۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کے لیے دو میں سے ایک کا اختیار ہے یا تو وہ دستورِ ہند سے بغاوت کا اعلان کر دیں اور پھر اپنے اس عمل کی ہر قیمت کو ادا کریں، یا پھر وہ کھلے طور پر یہ اعتراف کر لیں کہ مفتی صاحبان نے اس معاملے میں ملک کے قانونی نظام کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان دو کے سوا کوئی تیسرا انتخاب عملی طور پر ان کے لیے ممکن نہیں۔
یہاں میں یہ اضافہ کروں گا کہ مسلمانوں کو دوسری بار وہ غلطی نہیں کرنا چاہیے جو انھوں نے ۱۹۸۶ میں شاہ بانو بیگم کے مشہور کیس میں کی تھی۔ شاہ بانو کے کیس میں سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا تھا، اس کی ذمّے داری واضح طور پر خود مسلمانوں پر عائد ہوتی تھی۔ اس معاملے میں جو ہوا وہ یہ تھا کہ ایک مسلم خاتون (شاہ بانو بیگم) اپنے طلاق کے کیس کو ملکی عدالت میں لے گئیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ سابقہ شوہر مجھے ماہانہ گزارہ (maintenance) ادا کرے۔ اپنے مطالبے کے حق میں انھوں نے عدالت میں عبداللہ یوسف علی کا ترجمہ قرآن پیش کیا جس میں قرآن کی ایک متعلق آیت (البقرہ: ۲۴۱) کے تحت، متاع کا ترجمہ گزارہ (maintenance) کیا گیا تھا۔ انگریزی کا یہ ترجمہ قرآن جو ساری دنیا کے مسلمانوں میں سب سے زیادہ مقبول تھا اس کو لے کر سپریم کورٹ نے شاہ بانو کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیا۔
اصولی بات یہ تھی کہ عبداللہ یوسف علی نے آیت کا جو ترجمہ کیا تھا وہ غلط تھا۔ قرآنی لفظ متاع کا صحیح ترجمہ پراویژن (provision) ہے نہ کہ مینٹیننس (maintenance)۔
اس معاملے میں شرعی مسئلہ یہ ہے کہ مطلقہ عورت کے خاوند کو چاہیے کہ وہ بوقت طلاق حسب حیثیت عورت کو کچھ رقم وغیرہ دے دے۔ بعد از طلاق ماہانہ گزارہ ادا کرنے کی ذمے داری سابقہ شوہر پر نہیں ۔ ایسی حالت میں سپریم کورٹ کا فیصلہ خالص شرعی اعتبار سے درست نہ تھا۔ مگر اس
‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues