اسلام کا میکانائزیشن
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۱۸
اسلام کا میکانائزیشن
دبئی کی ایک کمپنی نے ایک نیا سیلولرفون بنایا ہے جس کا نام اسلامک موبائل فون ہے۔ اس فون میں اسلام سے متعلق مختلف قسّم کی معلومات بھری ہوئی ہیں۔ اس میں پورا قرآن ریکارڈ کیا ہوا محفوظ ہے۔ آپ کسی بھی وقت اس کو ایک بٹن دبا کر سن سکتے ہیں۔ اسی طرح اس کے ذریعے روزانہ پانچ وقت اذان سنی جاسکتی ہے۔ اسی کے ساتھ اس میں قرآن کا انگریزی ترجمہ بھی شامل ہے۔ اس طرح کی بہت سی معلومات اس اسلامک موبائل فون میں محفوظ کردی گئی ہیں۔
ایک بیرونی سفر کے دوران ایک صاحب نے مجھے یہ’’اسلامک موبائل فون‘‘ تحفے کے طور پر دیا۔ وہ بہت خوش نظر آرہے تھے۔ مگر میں نے موبائل کا یہ تحفہ فوراً ہی انھیں لوٹا دیا۔ میں نے کہا کہ مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں، میں اس کو زوال کی ایک علامت سمجھتا ہوں۔ میرے نزدیک اسلامک موبائل دراصل اسلامک کنزیومرازم ہے، اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ موجودہ زمانے میں اس قسّم کے میکانائزیشن کا بہت رواج ہوا ہے۔ مگر یہ صرف اس بات کی علامت ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان اسلام کی اسپرٹ کے بجائے اس کے فارم کو اصل سمجھنے لگے ہیں۔ حالاں کہ اسپرٹ کے بغیر فارم ایسا ہی ہے جیسے کہ نارنگی کے بغیر اس کا چھلکا۔
موجودہ زمانے میں کمیونی کیشن بہت بڑی نعمت ہے، مگر اس نعمت کا اصل استعمال یہ ہے کہ اس کو اسلامی دعوت کے لیے استعمال کیا جائے۔ بدقسمتی سے جدید کمیونی کیشن کو اب تک اسی اصل کام کے لیے استعمال نہ کیا جاسکا۔ اسلامی دعوت یہ ہے کہ اسلام کے مثبت پیغام کو قومی اور سیاسی آلائشوں سے پاک کرکے خالص ربانی انداز میں پھیلایا جائے۔ جدید کمیونی کیشن نے پہلی بار اس کو ممکن بنایا ہے کہ دعوت کا کام عالمی سطح پر انجام دیا جاسکے۔ جدید کمیونی کیشن کا اصل استعمال یہی ہے۔ جدید کمیونی کیشن کے استعمال کے بعد، اس کے دوسرے استعمالات بھی جائز ہو سکتے ہیں۔ مگر دعوتی استعمال کے بغیر اس کے دوسرے استعمالات کا کوئی جواز نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues