Al-Risala · April 2006 · page 20

سچائی کی طرف

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۲۰

سچائی کی طرف

خالد بن ولید مکہ میں پیدا ہوئے۔ پہلے وہ پیغمبر اسلام کے مخالف تھے۔ وہ پیغمبر اسلام کے خلاف کئی لڑائیوں میں شریک رہے۔ فتحِ مکہ (۸ ہجری) سے کچھ پہلے انھوں نے مدینہ آکر اسلام قبول کر لیا۔ انھوں نے اپنے اسلام کا قصہ بتاتے ہوئے کہا کہ قبولِ اسلام سے پہلے میں اسلام کے خلاف سرگرمیوں میں مشغول تھا، مگر مجھے بار بار یہ احساس ہوتا تھا کہ میں اپنے آپ کو غلط جگہ پر رکھے ہوئے ہوں (أني موضع في غير شيئ، البدایة والنهایة، جلد ۴، صفحہ ۲۳۸)

اس واقعے میں ایک نفسیاتی حقیقت بتائی گئی ہے۔ خدا نے ہر انسان کو فطرت پر پیدا کیا ہے۔ یعنی اُس فطرت پر جو خالق کو مطلوب ہے۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ ہر آدمی جو خدا کے راستے پر نہ ہو، وہ کہیں نہ کہیں اِس احساس سے دوچار ہوتا ہے کہ میں جس راستے پر چل رہا ہوں وہ میرا راستہ نہیں۔ میں اس کے سوا کسی اور چیز کے لیے پیدا کیا گیا ہوں۔ یہ احساس، فطرت کا انتباہ ہوتا ہے۔ یہ احساس آدمی کو موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی روش پر نظر ثانی کرے، اور صحیح راستے کو دریافت کر کے اُس پر چلنے لگے۔ مگر انسان اس انتباہ پر چوکنانہیں ہوتا، وہ بدستور اپنے غلط راستے پر چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ مر جاتا ہے۔ مذکورہ احساس دراصل انسان کی زندگی میں ایک نقطہ آغاز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ نقطۂ آغاز ہر آدمی کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی سمت سفر کو درست کر کے اپنی حقیقی منزل کی طرف چل پڑے۔ مگر خواہشات کا غلبہ، مفادات کی فکر، سماجی تعصّبات، خاندانی دباؤ وغیرہ رُکاوٹ بن جاتے ہیں۔ آدمی جاگنے کے باوجود دوبارہ سو جاتا ہے۔

ہر آدمی ایک ایسے کام میں مشغول ہے جس کے بارے میں اس کا دل مسلسل یہ کہہ رہا ہے کہ تم غلط جگہ پر ہو۔ کچھ لوگ اسی حالت میں جیتے ہیں اور اسی حالت میں مر جاتے ہیں، اور کچھ لوگ اس فکری دلدل سے نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور اپنے آپ کو اس راستے کا مسافر بنا لیتے ہیں جس کا تقاضا ان کی فطرت کر رہی تھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues

Printed page