مسلم ایجنڈا
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۲۱
مسلم ایجنڈا
ایجنڈا ہمیشہ دو چیزوں کی بنیاد پر بنتا ہے ۔ ماضی کا تجربہ اور حال و مستقبل کے امکانات۔ ان دونوں پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کا ایجنڈا یہ ہونا چاہیے کہ وہ ماضی کی غلطیوں کو دوبارہ نہ دہرائیں اور نئے امکانات کو جان کر ان کو بخوبی طور پر استعمال کریں۔
اس اعتبار سے غور کیجئے تو ہندوستانی مسلمانوں کے لیے پہلا کام یہ ہے کہ وہ منفی طرزِ فکر کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیں اور پوری طرح مثبت طرزِ فکر کو اختیار کر لیں۔ ۱۹۴۷ کے بعد بعض اسباب کی بنا پر مسلمانوں کا ذہن یہ رہا ہے کہ انڈیا ان کے لیے ایک پرابلم کنٹری ہے۔ یہ سوچ پہلے بھی غلط تھی اور اب تو وہ آخری طور پر بے بنیاد ثابت ہو چکی ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ شعوری طور پر نہ کہ مجبوری کے تحت، منفی سوچ اور منفی بولی کو بھلا دیں۔ وہ شعوری فیصلے کے تحت مثبت طرزِ فکر کو پوری طرح اپنا لیں۔ نئے حالات کی سب سے پہلی خوش آئند علامت یہ ہے کہ لبرلائزیشن کی پالیسی نے اور بیرونی دنیا سے انڈیا کے تعلقات کے اضافے نے ملک کے سیاسی اور معاشی اور سماجی حالات کو یکسر بدل دیا ہے۔ اس تبدیلی کا سب سے زیادہ امید افزا پہلو یہ ہے کہ ہر قسم کے مواقع لامحدود حد تک کھل گئے ہیں۔ اس کی ایک علامت یہ ہے کہ جمعہ اور عید کے موقع پر مسجدوں کے سامنے کاروں کی بھیڑ لگ جاتی ہے۔ اور ٹھیلے والوں کی جیب میں موبائل ٹیلی فون بج کر یہ اعلان کرتا ہے کہ معاشی مواقع اب اتنے زیادہ بڑھ گئے ہیں کہ خواص سے لے کر عوام تک ہر ایک کو اس کا فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اسی طرح سیاسی اور سماجی شعبوں میں بھی حالات پوری طرح بدل گئے ہیں۔
ان تبدیلیوں کا پہلا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ مسلمانوں کے لیے اب خارجی حالات کے مقابلے میں دفاع یا تحفظ کا کوئی مسئلہ باقی نہیں رہا۔ اب مسلمانوں کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ نئے حالات اور نئے مواقع کو پہچانیں اور اپنے اندر وہ صفات پیدا کریں جن کے ذریعے وہ نئے مواقع کو استعمال کر سکیں۔ تمثیل کی زبان میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بارش ہو چکی ہے۔ اب کسی کسان کو صرف اس کی بے عملی ہی محروم
‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues