ایک خط اور اس کا جواب
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۴۵
۸- دہلی کے ہندی میگزین سہارا سے کے نمائندہ مسٹر لئیق احمد رضوی نے ۱۷ اگست ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ٹیلی فون پر ریکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس خبر سے تھا کہ سپریم کورٹ نے مسلمانوں کے متوازی عدالتی نظام (Parallel Islamic Judiciary) کے خلاف نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیاہے (ٹائمس آف انڈیا ۱۷ اگست ۲۰۰۵)۔ سوالات کے جواب میں بتایا گیا کہ یہاں کوئی متوازی شرعی عدالت کا وجود نہیں ہے۔ یہ صرف ذاتی نوعیت کے مذہبی معاملات میں علماء کی رائے معلوم کرنا ہے۔ انڈیا میں اس قسم کا نظام ہزاروں سال سے چلا آ رہا تھا۔ ہندو راجاؤں کے زمانے میں خود راجاؤں کی اجازت سے ہُنرمَن ہوا کرتے تھے۔ مغل دور میں قاضی مقرر کیے۔ برٹش دور میں بھی قاضیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ آزادی کے بعد دار القضا و غیرہ کے نام سے اس مقصد کے لیے ادارے بنائے گئے ۔ یہ کوئی متوازی عدالتی نظام نہ تھا۔ البتہ حال میں کچھ مفتی صاحبان نے اپنی حد کو نہیں سمجھا۔ انھوں نے ایسے معاملات میں فتوے دینا شروع کئے جوفوجداری نوعیت کے تھے۔ اور اس بنا پر پروہ مفتی صاحبان کے دائرے سے باہر تھے۔ اب ضرورت صرف یہ ہے کہ یہ مفتی صاحبان اپنی غلطی کو مانیں اور آئندہ سختی کے ساتھ یہ اہتمام کریں کہ وہ فوجداری نوعیت کے معاملات میں کسی بھی قسم کا فتویٰ نہ دیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues