ایک خط اور اس کا جواب
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۶، صفحہ ۴۴
جیسا کہ ترقی یافتہ ملکوں میں ہوتا ہے۔ سرکاری سیکٹر کبھی حقیقی معنوں میں ترقی کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ ۵۔ نئی دہلی کے ہندی روز نامہ نو بھارت ٹائمس کے نمائندہ مسٹر ندیم اختر نے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ ۱۱ نومبر ۲۰۰۵ء کو بذریعہ ٹیلی فون یہ انٹرویو ریکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل سے تھا۔ مثلاً رزرویشن، وغیرہ۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ انڈیا میں بیس کروڑ سے زیادہ مسلمان ہیں۔ ان کا مسئلہ کبھی رزرویشن سے حل نہیں ہوسکتا۔ ان کا مسئلہ صرف داخلی کوشش سے حل ہوگا۔ اور داخلی کوشش کا سب سے زیادہ صحیح آغاز یہ ہے کہ مسلمان تعلیم میں آگے بڑھیں۔ مسلمان ہر جگہ اعلیٰ معیار کے اسکول کھولیں اور دوسروں کے قائم کیے ہوئے اچھے اسکولوں میں داخل ہو کر تعلیم حاصل کریں۔ مسلم نو جوانوں میں رزرویشن کے بجائے محنت کا جذبہ پیدا کرنا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ معاشیات میں لبرل پالیسی اختیار کرنے کے بعد مسلمان معاشی اعتبار سے بہت ترقی کر رہے ہیں۔ مگر یہ لوگ اپنے پیسے کا استعمال زیادہ تر نمائشی چیزوں میں کرتے ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے پیسے کو اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے میں خرچ کریں، اور اگر ممکن ہو تو کم آمدنی والے بچوں کی تعلیم میں مدد کریں۔ یہی مسلمانوں کے لیے ترقی کی طرف سفر کا آغاز ہے۔
۶۔ دور درشن (نئی دہلی) میں ۳ نومبر ۲۰۰۵ کی صبح کولائیو ٹیلی کاسٹ کے تحت، صدر اسلامی مرکز کا ایک پروگرام ہوا۔ اس پروگرام کا موضوع تھا: روزہ اور رمضان۔ یہ پروگرام دور درشن کے ہندی شعبے کے تحت کیا گیا۔ اس میں بتایا گیا کہ روزہ محض بھوک پیاس کا نام نہیں، بلکہ وہ ایک اخلاقی اور روحانی تربیت کا خدائی کورس ہے: Roza is a training for a life of patience. روزے میں افطار پارٹی گویا انٹریکشن پارٹی ہے۔ افطار پارٹی اگر با مقصد انداز میں کی جائے تو وہ ایک اچھا طریقہ ہے۔ اس کے ذریعے یہ موقع ملتا ہے کہ لوگوں کے درمیان مذہب کا صحیح تعارف پیش کیا جائے۔ افطار پارٹی لوگوں کو اسلام کے موضوع پر ڈائیلاگ کا موقع دیتی ہے۔
۷۔ ٹائمس آف انڈیا (نئی دہلی) کی نمائندہ محترمہ قریشی (25646745 :Tel) نے ۶ نومبر ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق اسلام کے مختلف پہلوؤں سے تھا۔ مثلاً عید، روزہ، نماز اور جہاد وغیرہ۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے جو فرقے وارانہ مسائل بتائے جاتے ہیں وہ سب فرضی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انڈیا میں مسلمانوں کے لیے، تمام مسلم ملکوں سے بھی زیادہ مواقع موجود ہیں۔ اصل غلطی مسلم رہنماؤں کی ہے۔ انھوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے معاملے کو مجارٹی ورسز مائنارٹی کا مسئلہ سمجھا۔ حالاں کہ موجودہ زمانے میں اصل مسئلہ لیاقت اور عدم لیاقت (competence versus incompentance) کا ہے۔ یہ دنیا مقابلے کی دنیا ہے۔ آپ لیاقت کے ذریعے یہاں سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں اور لیاقت کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ مسلمانوں کی ترقی کے لیے اصل ضرورت صرف ایک چیز کی ہے اور وہ ہے اعلیٰ تعلیم۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2006 All issues