مثبت شخصیت کی تعمیر
الرسالہ، مئی ۲۰۰۶
مثبت شخصیت کی تعمیر
روسو (Jean Jacques Rousseau) فرانس کا مشہور جمہوری مفکر ہے۔ وہ ۱۷۱۲ میں پیدا ہوا اور ۱۷۷۸ میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ شخصی بادشاہت کے مقابلے میں عوامی حکمرانی کا علم بردار تھا۔ وہ اپنی مشہور کتاب معاہدۂ عمرانی (Social Contract) کا آغاز اس جملے سے کرتا ہے— انسان آزاد پیدا ہوا تھا، مگر میں اس کو زنجیروں میں بندھا ہوا دیکھتا ہوں: Man was born free, but I see him in chain. مگر انسان کا ایک اور مسئلہ ہے جو شاید اس سے بھی زیادہ سنگین ہے، اور وہ کنڈیشننگ ہے۔ ہر عورت اور مرد کسی ماحول میں رہتے ہیں۔ ماحول کی نسبت سے ہر ایک کے ذہن کی کنڈیشننگ ہو جاتی ہے جو اس کو صحیح طرزِ فکر سے محروم کر دیتی ہے۔ آدمی اس قابل نہیں رہتا کہ وہ فطری انداز میں سوچ سکے ۔ اس مسئلے کو دیکھتے ہوئے روسو کے جملے کو زیادہ بہتر طور پر اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ— انسان فطرت پیدا ہوا تھا، مگر وہ ہر جگہ کنڈیشنڈ دکھائی دیتا ہے:
Man was created on divine nature, but I see him psychologically conditioned. ایک بچہ جب ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے، اس وقت اس کو دیکھیے تو وہ معصومیت کا پیکر دکھائی دے گا۔ ایسا معلوم ہوگا جیسے کہ فرشتے نے انسان کی صورت اختیار کر لی ہے۔ پیدائش کے وقت انسان اپنے ذہن کے اعتبار سے خالص ذہن کا حامل ہوتا ہے۔ اس کی سوچ عین وہی فطری سوچ ہوتی ہے جو بطور واقعہ ہونا چاہیے۔ مگر انسان ایک سماجی حیوان (social animal) ہے۔ اس کو اپنی ساری زندگی دوسروں کے بنائے ہوئے سماج کے اندر گزارنا ہوتا ہے۔ اس بنا پر اس کا ذہن ہر آن خارجی تاثر قبول کرتا رہتا ہے۔ جس کو کنڈیشننگ کہا جاتا ہے۔ یہ تاثر پذیری بڑھتی رہتی ہے، یہاں تک کہ انسان مکمل طور پر کنڈیشننگ کا کیس بن جاتا ہے۔