Al-Risala · May 2006 · page 3

مثبت شخصیت کی تعمیر

الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۳

سن شعور کو پہنچنے کے بعد ہر عورت اور مرد کی یہ لازمی ذمے داری ہے کہ وہ اس کنڈیشننگ کو سمجھے اور اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ کرکے دوبارہ اپنے آپ کو حالت فطری کی طرف واپس لے جائے، وہ اپنے آپ کو انسانِ مصنوعی کے بجائے انسانِ فطری بنائے۔

موجودہ زمانے میں علمِ نفسیات میں ایک نظریہ بہت عام ہوگیا ہے جس کو بہیو برازم (behaviourism) کہا جاتا ہے۔ نفسیات کے اس مدرسۂ فکر میں یہ مان لیا گیا ہے کہ یہ کنڈیشننگ ہی انسان کی مستقل حالت ہے، انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے کچھ نہیں، یہ دراصل ماحول کی کنڈیشننگ ہے جو انسان کی شخصیت سازی کرتی ہے۔ اس نظریے کے حاملین کہتے ہیں کہ انسان نیچر (nature) سے نہیں بنتا۔ بلکہ وہ نرچر (nurture) سے بنتا ہے۔ یعنی ماحول کی پرورش سے۔ اس نفسیاتی مدرسۂ فکر کے لوگ کہتے ہیں کہ انسان جہاں پیدا ہوتا ہے وہیں کے حالات اس کی شخصیت کی تشکیل کرتے ہیں:

He was nurtured when he was born. (Wotton)

انسانی شخصیت کی زیادہ گہری تحقیق اس نظریے کو رد کر رہی ہے۔ زیادہ گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے ایک مکمل شخصیت ہوتا ہے۔ جینیٹک کوڈ کی حالیہ دریافت مذکورہ نظریے کی مکمل تردید ہے۔ اس دریافت کے ذریعے یہ ثابت ہوا ہے کہ جینیٹک کوڈ کے اندر پیدائشی طور پر ہر انسان کی مکمل شخصیت موجود ہوتی ہے۔ بعد کے دور میں انسان کی جو شخصیت بنتی ہے، وہ اسی جینیٹک کوڈ کی صرف اُن فولڈنگ (unfolding) ہے۔

اس نقطۂ نظر کے مطابق، زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ ماحول کی کنڈیشننگ اصل انسان کے اوپر ایک مصنوعی پردے کی حیثیت رکھتی ہے۔ گویا انسان کی شخصیت پیاز کی مانند ہے۔ پیاز کے اندر مٹر کی مانند ایک مغز ہوتا ہے۔ اس داخلی مغز کے اوپر خارجی پردے کے مانند بہت سے چھلکے ہوتے ہیں۔ اگر ان چھلکوں کو ہٹایا جائے تو پیاز کا اندرونی مغز کھل کر سامنے آجائے گا۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان کی شخصیت کے اوپر ماحول کے اثر سے مصنوعی پردے پڑ جاتے ہیں۔ ان پردوں کو ہٹا دیا جائے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2006 All issues

Printed page