Al-Risala · May 2006 · page 4

مثبت شخصیت کی تعمیر

الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۴

تو انسان کی اصل شخصیت کھل کر سامنے آجائے گی۔

انسانی شخصیت کے انھیں خارجی پردوں کو ہٹانے کا نام ڈی کنڈیشننگ ہے۔ جو آدمی سچائی کا طالب ہو، اس پر لازم ہے کہ وہ اپنی ڈی کنڈیشننگ کرکے مصنوعی پردوں کو ختم کرے تاکہ اس کی اصل شخصیت سامنے آسکے۔

مذہب میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ انسان خدا کی خاص تخلیق ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ اسی خدائی شخصیت (Divine Personality) پر پیدا ہوتا ہے۔ وہ اپنے داخلی وجود کے اعتبار سے ایک صحیح اور کامل شخصیت ہوتا ہے۔ ابدی کامیابی کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی سب سے پہلے اپنی اس فطری شخصیت کی حفاظت کرے۔ وہ اپنے آپ کو اس حالتِ فطری پر قائم کرے جس پر اس کے پیدا کرنے والے نے اس کو پیدا کیا ہے۔ اسی خود تعمیری جدوجہد کا نام ڈی کنڈیشننگ ہے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان جب ایک ماحول میں پرورش پاتا ہے تو ہر دن اس کے ساتھ مختلف منفی تجربے پیش آتے ہیں۔ یہ تجربے اس کی اصل شخصیت پر غیر مطلوب پردے ڈالتے رہتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص اس کے مقابلے میں زیادہ ترقی کر گیا۔ یہ تجربہ اس کے اندر حسد کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ اور اس کی شخصیت کے اندر حسد کا ایک عنصر شامل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص اس کے ساتھ ناپسندیدہ سلوک کرتا ہے۔ یہ تجربہ اس کی شخصیت میں نفرت کا ایک عنصر شامل کر دیتا ہے۔ ایک مشاہدہ اس کے سامنے آتا ہے اس کو دیکھ کر اس کے اندر وہ چیز پیدا ہوتی ہے جس کو لالچ کہا جاتا ہے۔ یہ تجربہ اس کی شخصیت میں لالچ کا ایک عنصر داخل کر دیتا ہے۔ اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص اس کے ساتھ ظلم کا معاملہ کرتا ہے۔ یہ تجربہ اس کے اندر تشدد کا جذبہ جگاتا ہے، اور اس کی شخصیت میں تشدد کا عنصر شامل ہو جاتا ہے۔

اس طرح ماحول کے اندر آدمی کو مختلف قسم کے تجربات سے سابقہ پیش آتا رہتا ہے، اور ہر تجربہ ایک منفی عنصر بن کر اس کی شخصیت کی تشکیل کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ انسان کی اصل شخصیت پردوں میں ڈھک جاتی ہے۔ انسان فطری بدل کر انسان مصنوعی بن جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2006 All issues

Printed page