America's friend, King Fahad, dead.
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۱۹
America's friend, King Fahad, dead.
میرے نزدیک شاہ فہد کے لیے یہ لقب درست لقب نہیں۔ آج کل عام طور پر یہ مزاج ہے کہ لوگوں کو پروامریکایا اینٹی امریکا کے الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے۔ مگر صحیح بات یہ ہے کہ لوگوں کو حقیقت پسند(pro-reality) اور غیر حقیقت پسند (anti-reality) کی اصطلاحوں میں یاد کیا جائے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں، شاہ فہد نہایت ذہین اور حقیقت پسند آدمی تھے۔ انھوں نے حالات کے مطالعے سے یہ سمجھا کہ امریکا سے ٹکراؤ کرنا ان کو یا مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں دے گا، بلکہ یقینی طور پر وہ معکوس نتیجہ (counter-productive) کا سبب بن جائے گا۔ اس لیے انھوں نے یہ پالیسی اختیار کی کہ امریکا سے بے فائدہ ٹکراؤ نہ کیا جائے بلکہ امریکا کے ساتھ ایڈ جسٹمنٹ کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ واقعہ یہ ہے کہ امریکا اس وقت دنیا کی سب سے بڑی طاقت کی حیثیت رکھتا ہے۔ چنانچہ اس کو واحد سپر پاور کہا جاتا ہے۔ ایسی طاقت سے ٹکراؤ کرنا عقل اور دین دونوں کے خلاف ہے۔ اس کی ایک مثال خود قرآن میں موجود ہے۔ حضرت سلیمان جو اپنے زمانے کے عظیم حکمراں تھے، ان کے مقابلے میں ملکہ سبا نے ٹکراؤ نہ کرنے کی پالیسی اختیار کی اور اس کو کامیابی حاصل ہوئی (النمل ۳۷)۔ یہ واقعہ قرآن میں جس طرح بیان کیا گیا ہے وہ اصولِ تفسیر کے مطابق قرآنی تصدیق کے ہم معنی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ شاہ فہد نے اسی دانش مندانہ پالیسی کو اختیار کیا۔ یہ منفی طرزِ فکر کا نتیجہ تھا کہ لوگوں نے اس پالیسی کو غلط طور پر امریکا نواز پالیسی کا نام دے دیا۔
عربی زبان کی ایک بامعنی مثل ہے: تعرف الأشياء بأضدادها (چیزیں اپنے ضد سے پہچانی جاتی ہیں) اس تاریخی اصول کی روشنی میں شاہ فہد کے معاملے کو سمجھیے۔ امریکا کے مقابلے میں حکومتی پالیسی کا جو مسئلہ ہے، اس کے بارے میں موجودہ زمانے میں دو متضاد مثالیں ملتی ہیں۔ ایک، عرب کے حکمراں شاہ فہد کی مثال، جنھوں نے امریکا کے ساتھ صلح کا طریقہ اختیار کیا۔ دوسری مثال عراق کے حکمراں صدام حسین کی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، شاہ فہد کی حقیقت پسندانہ پالیسی کے نتیجے میں نہ صرف عرب کو بلکہ ساری مسلم دنیا کو بے شمار فائدے حاصل ہوئے۔ آج مسلم دنیا نیز یورپ اور
‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues