آں چہ دانا کند، گند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۲۰
امریکا میں ہر جگہ شان دار مسلم ادارے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے بنانے والے مسلمان اگر چہ زبان سے کھلے طور پر اس کا اعتراف نہیں کرتے مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ ان کی شان دار کامیابی کا راز سعودی حکومت کا عظیم تعاون ہے۔ سعودی حکومت اس عالمی تعاون کے قابل اس لیے بنی کہ اس نے مغربی طاقتوں کے مقابلے میں عدم ٹکراؤ کی پالیسی اختیار کی۔
عراق کے حکمراں صدام حسین کی زندگی اس کے برعکس مثال پیش کرتی ہے۔ انھوں نے امریکا کو مسلم دشمن قرار دے کر اس کے خلاف جنگ (أُم المعارک) کا اعلان کر دیا۔ بہت سے جذباتی مسلمان اس معاملے میں صدام حسین کے ہم نوا بن گئے، مگر نتیجہ کیا نکلا۔ صدام حسین اور عراق دونوں تباہ ہو گئے۔ عراق میں تیل کی دولت بڑی مقدار میں موجود تھی، مگر اس خدا داد دولت کا فائدہ نہ عراق کو ملا اور نہ عراق کے باہر دوسری مسلم دنیا کو۔
سعودی عرب کے قدیم حکمراں شاہ فیصل (وفات : ۱۹۷۵) اپنی جرأت اور بے باکی کے لیے مسلمانوں میں بہت مقبول ہوئے۔ مگر ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ شاہ فہد کی مفاہمت کی پالیسی اس سے بھی زیادہ عرب کے لیے نیز ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے غیر معمولی طور پر مفید ثابت ہوئی۔ اس معاملے میں ایک تقابلی مثال لیبیا کے حکمراں کرنل قذافی کی ہے۔ لیبیا کے پاس تیل کی بہت بڑی دولت موجود تھی۔ مگر کرنل قذافی نے امریکا مخالف پالیسی اختیار کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لیبیا میں کوئی ترقی نہ ہوسکی، اس کی دولت نہ لیبیا کے کام آئی اور نہ باہر کی مسلم دنیا کو اس سے کوئی فائدہ پہنچا۔ لیبیا، فارسی مقولے کے مطابق ’’ نہ خود خورد نہ کس دہد‘‘ کا مصداق بن گیا۔
کرنل معمّر قذافی کی مخالف امریکا پالیسی کی بنا پر امریکا نے لیبیا کے خلاف سخت کارروائی کی۔ چند سال یہ معاملہ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ کرنل معمر قذافی نے مجبور ہو کر امریکا کے مقابلے میں ہتھیار ڈال دیے ۔ گویا کرنل قذافی نے وہی حقیقت پسندانہ پالیسی بعد کو اختیار کی جو حقیقت پسندانہ پالیسی شاہ فہد بہت پہلے اختیار کر چکے تھے :
آں چہ دانا کند، گند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار
‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues