بھلا وہ کلچر
الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۱۴
پھر رہے ہوں گے، اور تمدن کے جنگل میں خوش پوش حیوان چلتے پھرتے دکھائی دیں گے۔ نظریہ ارتقاء کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان اور حیوان کا جسم بہت زیادہ ایک دوسرے سے مشابہ ہے۔ جسمانی افعال دونوں کے اندر یکساں قسم کے پائے جاتے ہیں۔ غذائی ہضم کا نظام جو ایک کے اندر ہے وہی دوسرے کے اندر بھی ہے۔ گویا کہ حیوان چار پاؤں سے چلنے والا انسان ہے، اور انسان دو پیروں سے چلنے والا حیوان۔
مگر نفسیات کا مطالعہ ایک مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔ نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان ساری کائنات میں ایک انتہائی استثنائی مخلوق کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان کی اس استثنائی حیثیت کا سبب صرف ایک ہے اور وہ انسان کا دماغ ہے۔ انسان کا دماغ انسان کو نہ صرف حیوانات سے بلکہ کائنات کی تمام چیزوں سے ممتاز طور پر مختلف بنا دیتا ہے۔ انسان کا دماغ انسان کی سب سے زیادہ قیمتی متاع ہے۔ یہ دماغ انسان کو ایک ایسی ممتاز حیثیت دے دیتا ہے جو وسیع کائنات میں کسی بھی دوسری چیز کو حاصل نہیں۔
کنزیومرازم کے کلچر نے انسان کے جسمانی حصے کو تو بہت کچھ دیا مگر اس کے ذہنی حصے کو تقریباً معطل کر دیا۔ حالاں کہ یہ ذہنی حصہ ہی انسان کا اصل وجود ہے۔ یہ ذہنی حصہ ہی انسان کو انسان بناتا ہے۔ ذہنی حصے کے بغیر انسان صرف حیوان ہے۔
اس کمی کو کو دور کرنے کے لیے ضرورت ہے کہ آج احیاء انسانیت کی تحریک چلائی جائے۔ انسان کو دوبارہ اس کی فطرت کی طرف لوٹایا جائے۔ انسان کو دوبارہ انسان بنایا جائے۔ انسان کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ دوبارہ اپنے ذہنی امکانات کو بروئے کار لائے۔ وہ ذہنی ارتقاء کے راستے پر دوبارہ سرگرم سفر ہو جائے۔