Al-Risala · May 2006 · page 13

بھلا وہ کلچر

الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۱۳

آج کے انسان کا حال یہ ہے کہ اس کو جسمانی غذا تو خوب مل رہی ہے، مگر دوسرے پہلو سے وہ ذہنی فاقہ (intellectual starvation) کا شکار ہوکر رہ گیا ہے۔ آج انسان کی پہلی ضرورت یہ ہے کہ اس کو ذہنی فاقے کے اس بحران سے باہر نکالا جائے۔ اس کو شعوری اعتبار سے اس قابل بنایا جائے کہ وہ زیادہ گہرے حقائق پر سوچ سکے۔ وہ زیادہ با معنی موضوعات کو اپنی توجہ کا مرکز بنا سکے۔ وہ حیوان کی سطح سے بلند ہوکر انسان کی سطح پر جینے لگے۔

انسان کی ذہنی تاریخ کے دو دور ہیں۔ ایک، کنزیومر کلچر کے فروغ سے پہلے، اور دوسرا، کنزیومر کلچر کے فروغ کے بعد۔ گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ کنزیومر کلچر کے فروغ سے پہلے انسان نے علم اور ادب کے میدان میں بہت زیادہ ترقیاں حاصل کی تھیں۔ اس زمانے میں بہترین علمی اور ادبی کتابیں وجود میں آئیں۔ مگر کنزیومر کلچر کے فروغ کے بعد یہ ہوا کہ علم و ادب کی ترقی رک گئی۔ بعد کے اس دور میں مشکل ہی سے کسی ایسی کتاب کا نام لیا جاسکتا ہے جو علم و ادب کے اعتبار سے اعلیٰ معیار پر تیار کی گئی ہو۔

اس فرق کا معاملہ خود سائنس تک پہنچا ہے۔ کنزیومر کلچر کے فروغ سے پہلے نظری سائنس کو زبردست ترقی ہوئی تھی۔ سائنس کے شعبوں میں بڑے بڑے اہل دماغ پیدا ہوئے، مگر کنزیومر کلچر کے فروغ کے بعد نظری سائنس کی ترقی تقریباً رک گئی۔ اب اہل سائنس زیادہ تر اُن موضوعات پر کام کر رہے ہیں جو آج کل کی اصطلاح میں مارکیٹ ایبل (marketable) آئٹم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پچھلے دور میں سائنس، علمی تحقیق کا نام تھی۔ مگر اب سائنس زیادہ تر ایک قسم کی اقتصادی سرگرمی (commercial activity) بن کر رہ گئی ہے۔

اس صورتِ حال کا یہ بھیا نک نتیجہ ہوا ہے کہ علمی اور ذہنی ترقی کا سفر تقریباً رک گیا ہے۔ ہر طرف خوش نما انسان چلتے پھرتے نظر آتے ہیں مگر حقیقی انسان تلاش کرنے کے باوجود کہیں نہیں ملتا۔ اس صورت حال کو بدلنا نہایت ضروری ہے۔ ورنہ انسانی آبادی ایک نئے قسم کا جنگل بن کر رہ جائے گی، قدرتی جنگل اور تمدنی جنگل میں صرف یہ فرق ہوگا کہ قدرتی جنگ کے حیوان فطرت کے لباس میں چل

‹ Previous page Next page › Contents of May 2006 All issues

Printed page