Al-Risala · May 2006 · page 16

یہ تضاد کیوں

الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۱۶

ہے، کھانا اور پینا بھی لذت ہے، سونگھنا بھی لذت ہے اور چھونا بھی لذت ہے، حتی کہ ہری گھاس کا لان ہو اور اس پر آپ ننگے پاؤں چلیں تو اس لمس میں بھی آپ کو بے پناہ لذت محسوس ہوگی۔ مگر یہاں ایک عجیب تضاد پایا جاتا ہے۔ انسان کے اندر لذت کا احساس تو انتہا درجے میں موجود ہے مگر لذت سے لطف اندوز ہونا اس دنیا میں اس کے لیے ممکن نہیں۔ میں ایک بار کشمیر گیا، وہاں پہل گام کے علاقے میں ایک پہاڑی دریا ہے جو پہاڑوں کے اوپر برف پگھلنے سے جاری ہونے والے چشموں کے ذریعہ سے بنتا ہے۔ اس کا پانی انتہائی خالص پانی ہے۔ جب میں پہل گام پہنچا اور وہاں دریا کے صاف و شفاف پانی کو دیکھا تو مجھے خواہش ہوئی کہ میں اس کا پانی پیوں۔ میں نے بہتے ہوئے دریا سے ایک گلاس پانی لے کر پیا تو وہ مجھے بہت زیادہ اچھا لگا، تمام مشروبات سے زیادہ اچھا۔ میں نے ایک گلاس کے بعد دوسرا گلاس پیا، یہاں تک کہ میں چھ گلاس پانی پی گیا۔ چھٹے گلاس کے بعد بھی میرا اشتیاق باقی تھا، مگر میں مزید پانی نہ پی سکا۔ اب میرے سر میں سخت درد شروع ہو گیا۔ درد اتنا شدید تھا کہ مجھے فوراً وہاں سے واپس ہونا پڑا۔ میں واپس ہو کر سری نگر پہنچا۔ سری نگر میں ایک کشمیری تاجر کے یہاں میرے شام کے کھانے کا انتظام تھا۔ کئی اور لوگ اس موقع پر بلائے گیے تھے۔ میں وہاں پہنچا تو میرے سر میں اتنا شدید درد ہو رہا تھا کہ میں کھانے میں شریک نہ ہو سکا۔ بلکہ ایک اور کمرے میں جا کر لیٹ گیا۔

یہی حال دنیا کی تمام لذتوں کا ہے۔ انسان دولت کماتا ہے۔ اقتدار حاصل کرتا ہے۔ اپنی پسند کی شادی کرتا ہے۔ اپنے لیے شان دار گھر بناتا ہے۔ عیش کے تمام سامان اکٹھا کرتا ہے۔ مگر جب وہ یہ سب کچھ کر چکا ہوتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اور لذتوں کے درمیان ایک حتمی رکاوٹ حائل ہے۔ کسی بھی لذت سے وہ اپنی خواہش کے مطابق لطف اندوز نہیں ہو سکتا۔ لذت کے تمام سامان بھی اس کو خوشی اور سکون دینے میں ناکام رہتے ہیں۔

لذتوں کے بارے میں انسان کی خواہش لامحدود ہے۔ مگر لذتوں کو استعمال کرنے کے لیے وہ خود ایک محدود صلاحیت رکھنے والا انسان ہے۔ انسان کی یہی محدودیت ہر جگہ اس کے اور سامانِ لذت

‹ Previous page Next page › Contents of May 2006 All issues

Printed page