یہ تضاد کیوں
الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۱۷
کے درمیان حائل ہو جاتی ہے۔ سب کچھ پانے کے بعد بھی وہ بدستور احساسِ محرومی میں مبتلا رہتا ہے۔ انسان کی جسمانی کمزوری، جوانی کا زوال، بڑھاپا، بیماری، حادثات اور آخر میں موت، مسلسل طور پر اس کی خواہشوں کی نفی کرتے رہتے ہیں۔ لذت کا سامان حاصل کر لینے کے باوجود یہ ہوتا ہے کہ جب وہ اس کو استعمال کرنا چاہتا ہے تو خواہش کی تکمیل سے پہلے ہی اس کی طاقت کی حد آ جاتی ہے۔ وہ ایک ختم شدہ طاقت (spent force) کی مانند بن کر رہ جاتا ہے۔
اس تضاد کو لے کر مزید مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تضاد دراصل تضاد نہیں ہے بلکہ وہ ترتیب کے فرق کا نتیجہ ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ فطرت کے نظام کے تحت، انسان کے لیے یہ مقدر کیا گیا ہے کہ وہ موت سے قبل کے دور میں اپنی مطلوب لذتوں کا صرف تعارف حاصل کرے اور موت کے بعد کے دور میں ان لذتوں کو حقیقی طور پر اور مکمل طور پر حاصل کرے۔
یہ ترتیب اتفاقی نہیں ہے، وہ خود فطرت کا حصہ ہے، وہ فطرت کے پورے نظام میں پائی جاتی ہے۔ اس دنیا میں انسان کو جو کامیابی بھی ملتی ہے وہ اسی ترتیب کے اصول کے تحت ملتی ہے۔ اس دنیا کی کوئی بھی کامیابی ترتیب کے اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔
زراعت میں پہلے بونا ہوتا ہے اس کے بعد کاٹنا۔ باغبانی میں پہلے پودا اُگانا ہوتا ہے اور اس کے بعد اس کا پھل حاصل کرنا۔ لوہے کے ساتھ پہلے پگھلنا ہوتا ہے اور اس کے بعد اس کو اسٹیل بنانا۔ غرض اس دنیا میں جتنی بھی چیزیں ہیں ان میں سے ہر ایک کے ساتھ یہی ترتیب اور تدریج کا معاملہ ہوتا ہے۔ ہر چیز پہلے ابتدائی دور سے گزرتی ہے اور پھر وہ اپنے انتہائی مرحلے تک پہنچتی ہے۔ فطرت کے اس اصول میں کسی بھی چیز کا کوئی استثنا نہیں۔
یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان کو لذت کا لامحدود احساس دیا گیا ہے مگر لذتوں سے لامحدود طور پر تمتع کرنے کا سامان موت کے بعد آنے والی اگلی دنیا میں رکھ دیا گیا ہے۔ موجودہ دنیا میں آدمی اپنی لذت طلبی کی صلاحیت کو دریافت کرتا ہے اور اگلی دنیا میں وہ اپنی لذت طلبی کے مطابق، لذت کے تمام سامانوں کو حاصل کرے گا۔ موت سے پہلے کے مرحلۂ حیات میں لذت کا احساس،