Al-Risala · May 2006 · page 20

Man's freedom ends where God's domain begins.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۲۰

اس دنیا میں انسان کو جو چیزیں ملی ہیں وہ سب خدا کا عطیہ ہیں۔ تمام چیزیں خدا کے دینے سے انسان کو ملی ہیں۔ ٹھیک یہی معاملہ آزادی کا بھی ہے۔ اس دنیا میں انسان کو جو آزادی ملی ہوئی ہے وہ مکمل طور پر خدا کا عطیہ ہے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ہر عطیہ اپنے ساتھ ذمے داری بھی لاتا ہے۔ اس عام اصول کے تحت، انسان کو ملی ہوئی آزادی بھی ایک لازمی ذمے داری کے ساتھ بندھی ہوئی ہے۔ وہ ذمے داری یہ ہے کہ— انسان اپنی آزادی کا صرف صحیح استعمال کرے، وہ کبھی اس آزادی کا غلط استعمال نہ کرے۔

آزادی کا غلط استعمال یہ ہے کہ آدمی اس آزادی کو اپنا حق سمجھ لے۔ وہ یہ یقین کرلے کہ میں اس آزادی کا مالک ہوں۔ میں جس طرح چاہوں اس آزادی کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کروں۔ اپنی آزادی کو استعمال کرنے کے بارے میں مجھے کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے مقابلے میں آزادی کا صحیح استعمال یہ ہے کہ آدمی یہ جاننے کی کوشش کرے کہ اس کو جو آزادی حاصل ہے، وہ اس کو کسی کے دینے سے ملی ہے۔ اور پھر یہ معلوم کرے کہ جو آزادی کا دینے والا ہے اس کی منشا اس آزادی سے کیا ہے، اور اس کی منشا کے مطابق، مجھے اپنی آزادی کو کس طرح استعمال کرنا چاہیے۔ یہی وہ دریافت ہے جو کسی آدمی کے لیے اپنی آزادی کو استعمال کرنے کا جواز فراہم کرتی ہے۔

مطالعہ بتاتا ہے کہ آزادی کا صحیح استعمال اور غلط استعمال کوئی پر اسرار چیز نہیں۔ کوئی بھی شخص اگر سنجیدہ ہے تو وہ یقینی طور پر اس کو دریافت کر سکتا ہے۔ کسی بھی حقیقت کو دریافت کرنے کے لیے سنجیدگی ضروری ہے۔ اس طرح آزادی کے اس قانون کو دریافت کرنے کے لیے بھی سنجیدگی لازمی شرط کی حیثیت رکھتی ہے۔

جو آدمی اس سوال پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے تو وہ سب سے پہلے اس دریافت تک پہنچے گا کہ ہر عورت اور مرد کے اندر پیدائشی طور پر صحیح اور غلط کی ایک کسوٹی رکھی ہوئی ہے۔ ہر آدمی خود اپنے فطری شعور کے تحت یہ جان سکتا ہے کہ کون سا رویہ صحیح ہے اور کون سا رویہ غلط۔ فطرت کی یہ کسوٹی وہی ہے جس

‹ Previous page Next page › Contents of May 2006 All issues

Printed page