Al-Risala · May 2006 · page 21

Man's freedom ends where God's domain begins.

الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۲۱

ضمیر (conscience) کہا جاتا ہے۔ اسی کا دوسرا نام کامن سنّس (common sense) بھی ہے۔ اس طرح آدمی خود اپنی فطرت کی آواز کے تحت، یہ جان سکتا ہے کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔ ہر آدمی کی فطرت گویا اس کے لیے ایک گائڈ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہر آدمی کے اندر ایک متنبہ کرنے والا عنصر (warner) موجود ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ یہ عنصر کبھی غافل نہیں ہوتا۔ وہ کبھی اپنی ڈیوٹی کی بجا آوری میں کوتاہی نہیں کرتا۔

اس سلسلے میں پہلی بات جو فطرت کے اس نظام کے تحت معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ انسان کے اندر پیدائشی طور پر ایک طاقت ور جذبہ موجود ہے۔ یہ اعتراف (acknowledgement) کا جذبہ ہے۔ ہر عورت اور مرد ذاتی طور پر اس کا تجربہ کرتے ہیں۔ ہر آدمی اپنے ضمیر یا کامن سنّس کے ذریعے یہ جانتا ہے کہ جب بھی ایک شخص دوسرے شخص کے ساتھ کوئی اچھا سلوک کرے تو دوسرے شخص کو چاہیے کہ وہ بھر پور طور پر اس کا اعتراف کرے۔ انسان کا داخلی گائڈ اعتراف کو ایک اعلیٰ اخلاقی قدر سمجھتا ہے۔ انسانی فطرت کے مطابق، اعتراف مسلّمہ طور پر شرافت کا اعلیٰ وصف ہے۔ اور بے اعترافی پستی اور ذلت کی پہچان ہے۔ اعتراف کرنے والا اپنی حیثیتِ انسانی کو برقرار رہتا ہے، اور اعتراف نہ کرنے والا اپنے آپ کو انسانی درجے سے نیچے گرا لیتا ہے۔

ضمیر یا کامن سنّس کا یہ فیصلہ خالق کے معاملے میں بھی یکساں طور پر درست ہے۔ ہر انسان کو چاہیے کہ وہ خود اپنی فطرت کی آواز کے تحت اپنے خالق کا اعتراف کرے۔ وہ اپنے خالق کے احسانات کو مانے۔ اس کے خالق نے اس کو جو نعمتیں عطا کی ہیں، ان کو اپنے دل کی گہرائی کے ساتھ محسوس کرے اور زبان سے کھلے طور پر اس کا اعلان کرے۔ خالق کا اعتراف فطرتِ انسانی کے مطابق ہے، اور خالق کا عدم اعتراف فطرتِ انسانی سے انحراف کی حیثیت رکھتا ہے۔

اسی طرح ہر عورت اور مرد کا تجربہ ہے کہ اس کا ضمیر ایک اخلاقی کسوٹی ہے۔ جو ہر موقعے پر اس کو آگاہ کرتا رہتا ہے۔ یہ ضمیر جھوٹ بولنے پر اس کو ملامت کرتا ہے اور سچ بولنے پر اس کے اطمینان کا باعث بنتا ہے۔ یہ ضمیر ناانصافی کو بُرا سمجھتا ہے، اور انصاف کو ہمیشہ اچھا بتاتا ہے۔ یہ ضمیر بددیانتی

‹ Previous page Next page › Contents of May 2006 All issues

Printed page