کارٹون کا مسئلہ
الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۳۰
لامحدود آزادی کا تصور نہایت خطر ناک ہے، ہم ایسی آزادی کا تحمّل نہیں کر سکتے: We can't afford freedom. ڈنمارک کے لوگ روایتی طور پر امن پسند لوگ ہیں، وہ مادی خوش حالی میں یقین رکھتے ہیں، میں نہیں سمجھتا کہ ڈنمارک کے لوگ یہ نادانی کریں گے کہ وہ اس حد تک نظریہ پرست بن جائیں گے کہ وہ اپنی آزادی کا لامحدود استعمال کرتے رہیں، خواہ اس کے نتیجے میں ان کے بین اقوامی تعلقات خراب ہوں، ان کی فیکٹریاں بند ہو جائیں۔ ان کو ناقابل تلافی حد تک تجارتی نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔ یقیناً اب وہ اس معاملے میں اپنی پالیسی کو بدلیں گے۔ مگر فارسی شاعر کے مطابق، آدمی ایسا کام کیوں کرے جس کا نتیجہ شرمندگی ہو: کجا کاری کند عاقل که باز آیدپشیمانی اس معاملے میں مسلمانوں کو بھی اسلامی تعلیم کے مطابق، احتساب خویش (introspection) سے کام لینا چاہیے۔ مسلمانوں کو بھی اس معاملے میں حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے یہ سوچنا چاہیے کہ اس طرح کے معاملے میں صحیح ردّ عمل کیا ہے اور نتیجہ خیز (result oriented) تدبیر کیا ہوسکتی ہے۔ اسلامی طرز فکر کے مطابق، سوچنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کو صرف "سازش" کی اصطلاح میں نہ سوچا جائے بلکہ زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں اس کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ مذکورہ کارٹونسٹ نے جس تصور کو اپنے خاکے میں پیش کیا وہ تصور اس کو کہاں سے ملا۔ اگر غیر جذباتی انداز میں سوچا جائے تو خود مسلمان بھی اس میں یکساں طور پر شریک نظر آئیں گے۔ مثلاً کارٹونسٹ نے اپنے کارٹون میں دکھایا تھا کہ پیغمبرِ اسلام اپنے ہاتھ میں ایک چھُری لیے ہوئے ہیں۔ بے لاگ انداز میں غور کیجیے تو کارٹونسٹ یہ کہہ سکتا ہے کہ مجھ کو یہ تصور مسلم شاعر ڈاکٹر محمد اقبال سے ملا۔ اقبال نے خود اپنے ایک شعر میں پیغمبر اسلام کے ماننے والوں کی تصویر ان الفاظ میں پیش کی ہے: ہر مسلماں رگِ باطل کے لیے نشتر تھا۔ اقبال کے اس مصرعے کا انگریزی ترجمہ مسٹر خوشونت سنگھ نے ان الفاظ میں کیا ہے:
To every vein of falsehood, every muslim was a knife.