کارٹون کا مسئلہ
الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۲۹
بڑھے کہ حکومتوں کے لیے ان پر قابو پانا مشکل ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں جو ناخوش گوار واقعات پیش آئے ان میں سے ایک واقعہ یہ تھا کہ کئی عرب ممالک نے ڈنمارک سے اپنے سفارتی تعلقات توڑ لیے اور اس سے اپنی تجارت منقطع کر دی۔
ڈنمارک ، ڈیری صنعتوں کے لیے مشہور ہے۔ یہاں کی ڈیری صنعت کا تقریبا ۲۵ فیصد سامان عرب ممالک اور دیگر مسلم ممالک میں جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ڈنمارک کی کئی فیکٹریاں بند ہو گئیں اور بھاری تجارتی نقصان کی صورت میں ڈنمارک کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑی۔ اس کے نتیجے میں ڈنمارک کوروزانہ ایک ملین ڈالر کا نقصان ہونے لگا۔
اس معاملے میں ڈنمارک اور دوسرے مغربی ملکوں کا موقف یہ ہے کہ مغربی تہذیب کے مطابق ، آزادیٔ اظہار انسان کا نا قابل تنسیخ حق ہے ، اور مذکورہ کارٹون اسی حق کا ایک استعمال تھا۔ اس لیے ڈنمارک کے اخبار میں مذکورہ کارٹون کی اشاعت ان کے نزدیک کوئی قابل اعتراض چیز نہیں۔ ان کے خیال کے مطابق ، مسلم جذبات کے لیے وہ ایک قابل اعتراض چیز ہو سکتی ہے لیکن ڈنمارک کے لوگوں کے نزدیک وہ صرف اپنی آزادی کا ایک استعمال تھا ، اور مُلکی قانون کے مطابق ، وہ آزادی کے اس استعمال کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔
اجتماعی معاملات میں سوچنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک ، یہ کہ آئیڈیل کیا ہے ، اور دوسرے یہ کہ پریکٹیکل طور پر کیا ممکن ہے اور کیا ممکن نہیں۔ اس معاملے میں اہل ڈنمارک کا جواب آئیڈیل کے اعتبار سے بظاہر درست ہو سکتا ہے ، لیکن پریکٹیکل کے اعتبار سے دیکھیے تو وہ بالکل نادرست قرار پائے گا۔ آزادی کا استعمال ایک فرد اپنے کمرے میں کرے تو اُس سے کوئی اجتماعی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ لیکن جب وہ اپنی آزادی کا استعمال اجتماعی زندگی میں کرے تو یقینی طور پر مسائل پیدا ہوں گے۔ ایسی حالت میں فرد کو یہ سوچنا چاہیے کہ کیا وہ اُن منفی نتائج کا تحمل کر سکتا ہے جو آزادی کے لامحدود استعمال کی صورت میں اس کے لیے پیدا ہوں گے۔
استعمال آزادی کے اسی پہلو کو لے کر امریکہ کے پروفیسر اسکنر (Skinner) نے کہا تھا کہ