اعراض کی ضرورت
الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۳۳
اعراض کی ضرورت
جس طرح تصویر جدید صحافت کا ایک حصہ ہے، اسی طرح کارٹون بھی جدید صحافت کا ایک حصہ ہے۔ تصویر اور کارٹون دونوں کا مقصد ایک ہے۔ صحافت کو قارئین کے لیے دلچسپ بنانا۔ کارٹون کا مقصد نہ کسی کی تعریف ہوتی ہے اور نہ کسی کی توہین۔ وہ اخبار کا صرف ایک تفنن آمیز جُز (comic item) ہوتا ہے۔ سنجیدہ آدمی کا رٹون کو دیکھ کر یا اس سے محظوظ ہو گا یا وہ سادہ طور پر اس کو نظر انداز کر دے گا۔
ڈنمارک کے ایک اخبار شیلاندس پوسٹین (Jyllands Posten) ۳۰ ستمبر ۲۰۰۵ میں ایک مضمون کے تحت، ایک کارٹون چھپا۔ اس کارٹون میں پیغمبر اسلام ﷺ کا ایک خاکہ بنایا گیا تھا، اور آپ کے سر پر ایک پگڑی دکھائی گئی تھی جس کی بناوٹ بم کی مانند تھی۔ اس کارٹون کی خبر جب مسلم دنیا تک پہنچی تو تمام مسلمان اس پر برہم ہو گئے۔ کچھ لوگوں نے توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ کچھ لوگوں نے تقریر اور تحریر میں اس کے خلاف احتجاج کیا۔ میرے علم کے مطابق، ساری مسلم دنیا میں غالباً کوئی شخص نہیں تھا جو مسلمانوں کے اس منفی ردعمل کی کھلی مذمت کرے۔ قابلِ اعتراض کارٹون کی مذمت کرنا اور منفی احتجاج کی مذمت نہ کرنا بلاشبہ اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔
کارٹون کے خلاف اس منفی ردعمل کو یہ کہہ کر جائز قرار دیا گیا کہ وہ پیغمبر اسلام کو بدنام کرنے کی مہم کے تحت کیا گیا ہے اور اس قسم کی مہم ہمارے لیے ناقابل برداشت ہے۔ مگر یہ سوچ اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق ، اس طرح کے معاملے میں صحیح سوچ یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ اس کا اصل سبب کیا ہے، اور اصل سبب کی نسبت سے اپنے رد عمل کا تعین کیا جائے ۔ غور کیجئے تو اس قسم کے کارٹون کو وجود میں لانے کے ذمّے دار خود مسلمان ہیں۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کے اندر ذاتی احتساب (introspection) کا ذہن اُبھرنا چاہیے نہ کہ دوسرے کے خلاف احتجاج ظاہر کرنے کا ذہن۔