اعراض کی ضرورت
الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۳۴
عربی مثل ہے کہ تعرف الاشیاء باضدادھا (چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں) اس اصول کو اس معاملے میں استعمال کر کے دیکھیے۔ دنیا میں ایک درجن بڑے مذاہب ہیں۔ ہر مذہب کے مقدس پیشوا ہیں۔ مگر ان پیشواؤں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا کہ ان کے سر پر بم رکھا ہوا دکھایا جائے۔ پھر کیوں ایسا ہے کہ پیغمبر اسلام کے ساتھ اس قسم کا معاملہ پیش آیا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلمان لمبے عرصے سے اسلام کے نام پر جگہ جگہ تشدد کر رہے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی تشدد میں ملوث ہیں۔ مثلاً آئر لینڈ میں عیسائی، آسام میں ہندو، سری لنکا میں بدھسٹ وغیرہ۔ مگر فرق یہ ہے کہ دوسرے مذہب کے لوگ اپنا متشددانہ عمل اپنے قومی مفاد کے نام پر کرتے ہیں، جب کہ مسلمان اپنے متشددانہ عمل کو اسلامی جہاد کے نام پر کرتے ہیں۔
ایسی حالت میں یہ ایک فطری بات ہے کہ دوسری قوموں کا متشددانہ عمل ان کی اپنی قوم کی طرف منسوب کیا جائے۔ اور مسلمانوں کا متشددانہ عمل ان کے مذہب کی طرف منسوب ہو اور مذہب اسلام کی بدنامی کا سبب بنے۔ اس اعتبار سے غور کیجئے تو مذکورہ اخباری کارٹون کو دیکھنے کے بعد مسلمانوں کے اندر ذاتی احتساب کا جذبہ ابھرنا چاہیے تھا۔ وہ کہتے کہ ہم نے خود اپنی روش کے ذریعے دنیا کو یہ تاثر دیا ہے کہ پیغمبر اسلام کا مذہب، تشدد کا مذہب ہے۔ اس لیے ہم کو چاہیے کہ ہم اسلام کے نام پر کیے جانے والے تشدد کو مکمل طور پر چھوڑ دیں۔ یا اگر تشدد کرنا ہے تو اس کو اسلام کے نام پر نہ کریں، جیسا کہ دوسرے مذاہب کو ماننے والے کر رہے ہیں۔
اسلام کی تعلیمات میں سے ایک اہم تعلیم وہ ہے جس کے لیے قرآن میں صبر اور اعراض کے الفاظ آئے ہیں۔ صبر اور اعراض، تشدد کے برعکس رویّے کا نام ہے۔ تشدد یہ ہے کہ کوئی بات جو آپ کو ناگوار معلوم ہو اس پر مشتعل ہو جانا، اور احتجاج یا تخریب کاری کی صورت میں اپنے انتقامی جذبے کا اظہار کرنا۔ اس کے برعکس، صبر و اعراض یہ ہے کہ ناخوش گوار باتوں کا سامنا تحمل کے ساتھ کیا جائے۔ اپنے آپ کو منفی کارروائیوں سے بچایا جائے تا کہ اپنے مقصد کی طرف مثبت سفر کو جاری رکھا جا سکے۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں فطری طور پر ایسا ہوگا کہ بہت سے لوگ اپنی آزادی کا