اعراض کی ضرورت
الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۳۶
حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے معاملے میں دیکھنے کی اصل بات یہ نہیں ہے کہ ہمارے اپنے نقطۂ نظر سے صحیح کیا ہے اور غلط کیا بلکہ دیکھنے کی اصل بات یہ ہے کہ اگر ہم نے اقدام کیا تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ جیسا کہ معلوم ہے، جب سے پریس کا زمانہ آیا ہے اس طرح کے معاملات بار بار پیش آتے ہیں۔ ہر بار مسلمان اس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہیں۔ حتی کہ وہ توڑ پھوڑ اور تشدد کا طریقہ بھی اختیار کرتے ہیں۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ نتیجہ ہمیشہ برعکس صورت میں نکلتا ہے۔ یعنی اخباروں یا کتابوں میں مسلم نقطۂ نظر سے ناخوش گوار باتوں کا چھپنا تو بند نہیں ہوتا، البتہ اسلام شدید طور پر بدنام ہو جاتا ہے، اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلقات کی فضا بگڑ جاتی ہے۔ دونوں کے درمیان وہ معتدل ماحول باقی نہیں رہتا جو کسی مثبت کام کے لیے ضروری ہے۔ خاص طور پر دعوتی کام کے اعتبار سے دیکھیے تو اس طرح کا منفی ردِّعمل ، قاتل دعوت کی حیثیت رکھتا ہے۔
موجودہ زمانے میں اخباروں اور کتابوں میں برابر ایسی چیزیں چھپتی رہتی ہیں جو اسلام کی تصویر کو بگاڑنے والی ہوتی ہیں۔ اس کا صحیح جواب یہ نہیں ہے کہ اس کے خلاف مظاہرے کیے جائیں بلکہ اس کا صحیح اور مؤثر جواب یہ ہے کہ ایسی کتابیں تیار کر کے چھاپی جائیں جو ہر اعتبار سے نہایت اعلیٰ معیار کی ہوں۔ ان میں ایسے دلائل کے ذریعے اسلام کی مثبت تصویر کو پیش کیا جائے جو لوگوں کے ذہنوں کو مطمئن کرنے والے ہوں، اور لوگوں کے دلوں میں اتر جائیں۔
موجودہ صورتِ حال میں اسلام کی نسبت سے، سب سے بڑا مسئلہ وہ ہے جس کو امیج بلڈنگ (image building) کہا جاتا ہے۔ یعنی اسلام کے خلاف غلط فہمیوں کو دور کرنا اور اسلام کی صحیح تصویر لوگوں کے سامنے لانا۔ یہی کرنے کا اصل کام ہے، اور کرنے والوں کو یہی کام کرنا چاہیے لمثل هذا فليعمل العاملون۔