Al-Risala · May 2006 · page 35

اعراض کی ضرورت

الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۳۵

غلط استعمال کریں گے۔ جس سے آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی۔ لیکن یہ صورت حال کسی فرد یا قوم کی سازش کا نتیجہ نہیں ہے۔ بلکہ وہ خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کا نتیجہ ہے۔ خدا نے لوگوں کو جب امتحان کے لیے آزادی دی ہے تو ضرور ایسا ہوگا کہ لوگ اپنی آزادی کا غلط استعمال کریں۔ خدا جب تک لوگوں کی آزادی کو منسوخ نہ کرے اس کا غلط استعمال بھی بہرحال جاری رہے گا۔ ایسی حالت میں نا خوش گوار واقعات پر مشتعل ہونا، کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی خدا کے تخلیقی نقشے پر راضی نہیں۔ خدا کی قائم کردہ دنیا اس کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ایک اور دنیا ہو جو اس کی اپنی مرضی کے مطابق ہو۔ مگر ایسا ہونا کبھی ممکن نہیں۔ انسان اپنی پسند کی ایک اور دنیا نہیں بنا سکتا۔ اس لیے اس پر لازم ہے کہ وہ خدا کے تخلیقی نقشے کو مان کر اس کے تحت، اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے۔

پیغمبرِ اسلام کی زندگی میں جس طرح دوسری باتوں کے نمونے موجود ہیں، اسی طرح مذکورہ صورت حال میں بھی آپ کی زندگی میں ہمارے لیے نمونہ موجود ہے۔ مثال کے طور پر ابنِ اسحاق کی روایت کے مطابق، قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مُذَمَّم (قابلِ مذمت) رکھا تھا۔ پھر وہ آپ پر سب وشتم کرتے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے کہ کیا تم کو اس پر تعجب نہیں کہ اللہ نے مجھ کو قریش کی ایذارسانی سے بچالیا۔ وہ مجھ کو مذمم کہہ کر میرا سب وشتم کرتے ہیں اور میری ہجو کرتے ہیں، حالاں کہ میں محمد (قابلِ تعریف) ہوں ۔ (سیرت ابن ہشام، جلد اول، صفحہ ۳۷۹) یعنی اُن کی باتیں میرے اوپر پڑنے والی نہیں۔ یہ لوگ مذمم پر سب وشتم کر رہے ہیں جب کہ میرا نام محمد ہے نہ کہ مذمّم ۔

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اس نمونے کی روشنی میں یہ ہونا چاہیے تھا کہ مسلمان جب مذکورہ کارٹون کو دیکھیں تو وہ یہ کہہ کر اس کو نظر انداز کردیں کہ پیغمبرِ اسلام تو بم بردار نہیں تھے بلکہ وہ امن بردار تھے۔ اس لیے یہ کارٹون پیغمبرِ اسلام سے متعلق نہیں ہوسکتا۔ وہ کسی اور انسان سے متعلق مانا جائے گا جو بم بردار ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2006 All issues

Printed page