Al-Risala · May 2006 · page 38

تعلیم سب کچھ ہے

الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۳۸

قدیم زمانے میں کہا جاتا تھا کہ: العلم علمان، علم الأديان وعلم الأبدان۔ یعنی علم کی دو قسمیں ہیں، مذہب کا علم، اور علاج معالجے کا علم۔ مگر آج علم کی بے شمار نئی قسمیں وجود میں آ چکی ہیں۔ ان علوم کو جانے بغیر کسی بھی شعبے میں ترقی کرنا ممکن نہیں۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ بہت سے وہ شہر جو قدیم زمانے میں دستی صنعت کے لیے مشہور تھے، اب وہاں ایک نیا دور آ چکا ہے۔ وہاں کے جن لوگوں نے جدید تعلیم حاصل کی وہ اپنی دست کاری میں نئے تکنیکل طریقوں کو استعمال کر کے بہت آگے بڑھ گئے، اور جو لوگ روایتی علم پر باقی رہے وہ ترقی کی نئی دوڑ میں دوسروں سے پیچھے ہو گئے۔ یہ منظر آج بہت سے شہروں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ سابق صدر امریکا، لنڈن جانسن نے کہا تھا کہ امریکا کی ترقی کے لیے تعلیم بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ یہی معاملہ ہر گروہ کا ہے۔ جو گروہ بھی ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھنا چاہے، اس کو یہ کرنا ہوگا کہ اپنی نسلوں کو زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ بنائے۔ کسی نے درست طور پر کہا ہے کہ موجودہ زمانے میں ترقی کے لیے تین چیزوں کی ضرورت ہے: اول تعلیم، دوم تعلیم، سوم تعلیم، اور آخر میں پھر تعلیم۔ دوسری عالمی جنگ میں جاپان پوری طرح تباہ ہو گیا تھا۔ ۱۹۴۶ میں جاپان کو یہ فیصلہ کرنا تھا کہ وہ جاپان کی از سرِ نو تعمیر کے لیے کیا کرے۔ جاپان کی قیادت نے یہ فیصلہ کیا کہ انھیں اپنی نئی نسلوں کو سب سے پہلے اعلیٰ تعلیم دلانا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے جاپان میں تیس سالہ تعلیمی منصوبہ بنایا گیا۔ جب یہ تیس سالہ منصوبہ پورا ہوا تو دنیا نے دیکھا کہ جاپان دوبارہ ایک ترقی یافتہ ملک بن چکا ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف جاب حاصل کرنا نہیں ہے۔ بلاشبہ تعلیم کے ذریعے جاب بھی حاصل ہوتا ہے، لیکن تعلیم ایک اور چیز کے حصول کا ذریعہ ہے ۔ یہ چیز جاب سے بھی زیادہ اہم ہے، اور وہ فکر و شعور کی ترقی ہے۔ تعلیم، آدمی کو باشعور بناتی ہے۔ تعلیم آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنے حالات کو بخوبی طور پر سمجھے، اور اپنی زندگی کی درست منصوبہ بندی کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی گروہ کے لیے تعمیر و ترقی کا سنگل پوائنٹ فارمولا صرف ایک ہے، اور وہ وہی چیز ہے جس کو تعلیم یا ایجوکیشن کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2006 All issues

Printed page