تعلیم سب کچھ ہے
الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۳۹
خبر نامہ اسلامی مرکز 173
١۔ انڈیا ٹی وی (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر کرشنا موہن مشرانے ۱۶ اگست ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ان کے سوالات کا تعلق زیادہ تر اس بات سے تھا کہ مذہبی اختلافات کے بارے میں اسلام کی رہنمائی کیا ہے۔ انھیں بتایا گیا کہ اسلام ہر حال میں امن چاہتا ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اختلافات کو برداشت کرو۔ اس سے زیادہ اگر کچھ کرنا ہے تو پر امن بات چیت (peaceful dialouge) کرو۔ اسلام میں تشدد کسی بھی حال میں جائز پیس۔ ۲۔ ڈنمارک کے ایک اخبار میں ۳۰ ستمبر ۲۰۰۵ کو پیغمبر اسلام کے بارے میں کچھ کارٹون شائع ہوئے۔ جس کے بعد ساری دنیا میں مسلمانوں نے سخت مظاہرہ کیا۔ اس سلسلے میں سعودی ٹیلی ویژن کی ایک ٹیم فروری ۲۰۰۷ کو ڈنمارک گئی۔ وہاں انھوں نے مختلف لوگوں کے ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیے۔ اس سلسلے میں سعودی ٹیلی ویژن کی طرف سے اسلامی مرکز کے دفتر میں ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم سیرت رسول کے موضوع پر دو انگریزی کتابیں ڈنمارک لے جا کر وہاں کے تعلیم یافتہ لوگوں کو دینا چاہتے ہیں۔ کیرن آرم اسٹرانگ کی سیرت پر کتاب دوسو، اور اسلامی مرکز کی چھپی ہوئی کتاب پیغمبر انقلاب (انگریزی) دوسو۔ اس کے مطابق، ان کو پیغمبر انقلاب کا مطلوب کا پیاں بذریعہ ہوائی جہاز بھیج دی گئیں۔ ان کتابوں کو سعودی ٹیلی ویژن نے ڈنمارک میں تقسیم کیا۔
٣۔ نئی دہلی کے انگریزی میگزین لائف پازیٹیو کے زیر اہتمام انڈیا ہیبیٹیٹ سنٹر (نئی دہلی) میں ایک نیشنل سیمینار ہوا۔ اس کا موضوع این لائٹن مینٹ (Enlightenment) تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی، اور اس کے آخری اجلاس ۵ دسمبر ۲۰۰۵ میں مذکورہ موضوع پر ایک تقریر کی۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ این لائٹن مینٹ کے مختلف مفہوم ہیں —— فلسفیانہ، مذہبی اور روحانی۔ لیکن روزمرہ کی زندگی کے اعتبار سے اس کا عمومی مفہوم یہ ہے کہ آدمی ذہنی اعتبار سے اتنا زیادہ بیدار ہو چکا ہو کہ وہ منفی تجربے کو بدل کر اسے مثبت تجربہ بنا سکے۔ ۴۔ دور درشن (نئی دہلی) نے صدر اسلامی مرکز کے ایک تفصیلی انٹرویو کی ویڈیو ریکارڈنگ کی۔ یہ ریکارڈنگ ۷ دسمبر ۲۰۰۵ کو دور درشن کے اسٹوڈیومیں ہوئی۔ مسٹر راجیو مہروترا اس کے انٹرویو ر تھے۔ یہ انٹرویو پورے آدھ گھنٹے کا تھا۔ یہ پورا انٹرویو الرسالہ اور صاحب الرسالہ کے بارے میں تھا۔ سوالات کے دوران بتایا گیا کہ ہمارا مشن نہیں اور اسپرچولٹی ہے۔ اسلامی تعلیمات کے بارے میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے بتایا گیا کہ قرآن میں صرف اساسی تعلیمات ہیں۔ حالات زمانہ کے لحاظ سے اجتہاد کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ اسلام میں ہر وہ اجتہاد جائز ہے جو شریعت کی بنیادی تعلیمات سے نہ ٹکراتا ہو۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ فتویٰ کا مطلب شخصی رائے ہوتا ہے۔ فتویٰ کی حیثیت عدالتی حکم کی نہیں ہے۔ مزید یہ کہ فتویٰ دینے میں مفتی غلطی بھی کر سکتا ہے۔ یہ تمام سوالات و جوابات انگریزی زبان میں تھے۔ ۵۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کے قانون داں حضرات کی ایک تنظیم سرچ(Search) کے نام سے قائم ہے۔ ۹ دسمبر ۲۰۰۵ کو اس کے تحت، انڈیا انٹرنیشنل میں ایک سیمینار ہوا۔ اس کے صدر جسٹس کرشنا آئّر تھے۔ اس موقع پر