Al-Risala · May 2006 · page 45

Allon, Israel

الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۴۵

ٹیلی کاسٹ کے تحت تھا، اور دوسرا اسلامی مرکز کے دفتر میں ویڈیو ریکارڈنگ کے طور پر۔ انٹرویو رجسٹر ا جیئش کو شک تھے ۔ دونوں انٹرویو کا موضوع اُس کارٹون سے متعلق تھا جو ڈنمارک کے ایک اخبار میں ستمبر ۲۰۰۵ میں چھپا تھا۔ مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس معاملے کا ایک پہلو وہ ہے جو نظری حیثیت رکھتا ہے، اور دوسرا پہلو وہ ہے جو طریق کار سے متعلق ہے۔ نظری حیثیت سے ہر شخص کو آزادی ہے کہ وہ جس چیز کو درست سمجھے اس کا اظہار کرے۔ یہ ہر فرد اور ہر گروہ کا حق ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ کارٹون کے موضوع پر مظاہرہ کرنے والے اپنے حق کا استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن طریق کار کے معاملے میں کسی بھی فرد یا گروہ کو تشدد تک جانے کی اجازت یں، نہ براہِ راست طور پر اور نہ بالواسطہ طور پر۔ مثلاً یہ اعلان کرنا کہ جو شخص کارٹونسٹ کو مار ڈالے گا اس کو سونے میں تول دیا جائے گا۔ یا ایسے حالات پیدا کرنا کہ فائرنگ ہو اور بے گناہ لوگ مارے جائیں۔ بلڈنگ کو جلانا، اپنی آزادی کے نام پر دوسروں کی آزادی میں خلل ڈالنا وغیرہ۔ یہ سب انتہا پسندی کے طریقے ہیں۔ اور انتہا پسندی درست نہیں، نہ اسلام کے مطابق، اور نہ عقل کے مطابق۔

۲۲۔ ۱۹ فروری 2006 کو حسبِ معمول 1، نظام الدین ویسٹ مارکیٹ میں ہفتے وار اسپرچول کلاس ہوا۔ اس میں تقریر کا موضوع ڈنمارک کے اخبار میں شائع شدہ کارٹون کا مسئلہ تھا۔ ڈیڑھ گھنٹے کی تقریر میں بتایا گیا کہ کارٹون کے مسئلے پر مشتعل ہونا اور مظاہرے کرنا، اسلامی تعلیم کے مطابق نہیں۔ اس طرح کی چیزوں کو نظر انداز کرنا چاہیے نہ کہ ان کو لے کر پُر تشدد مظاہرے کیے جائیں۔ مسلمان ایک داعی گروہ کا نام ہے، اور داعی گروہ اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ ایسے مظاہرے کرے جس کے نتیجے میں داعی اور مدعو کے درمیان دوری پیدا ہو جائے اور اسلام لوگوں کی نظر میں ایک بدنام مذہب بن جائے۔ مزید بتایا گیا کہ ساتویں صدی عیسوی میں اسلامی انقلاب کے بعد جو تاریخی پر اسس جاری ہوا، اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ دعوہ ورک کے نئے امکانات سامنے آگئے۔ اب ہمارا کام ان امکانات کو استعمال کرنا ہے کہ نہ منفی کارروائیوں سے ماحول کو اتنا خراب کرنا کہ دعوہ ورک مشکل ہو جائے تقریر کے آخر میں آدھ گھنٹہ سوال اور جواب کے لیے دیا گیا۔ ایک سوال یہ تھا کہ آپ صبر و اعراض کی تلقین کرتے ہیں۔ اگر ہم لوگ صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کریں تو لوگ اور زیادہ دلیر ہو جائیں گے اور ہم کو بز دل سمجھ لیں گے۔ جواب میں بتایا گیا کہ یہ سوچ صحیح نہیں ہے۔ صبر و اعراض بے عملی کا نام نہیں بلکہ وہ ایک منصوبہ بند عمل کا نام ہے۔ صبر و اعراض کا مطلب اپنے لیے وقفہ تعمیر حاصل کرنا ہے۔ ایک سوال یہ تھا کہ رسول اور اصحابِ رسول نے اُس وقت صبر کا طریقہ اپنایا جب کہ وہ تعداد میں بہت کم تھے۔ آج مسلمان عددی اعتبار سے ایک بلین ہو گئے ہیں۔ کیا ایسی حالت میں بھی صبر و اعراض کا طریقہ اپنایا جائے گا۔ جواب میں کہا گیا کہ یہ مسئلہ تعداد کا نہیں ہے بلکہ اصول کا ہے۔ صبر و اعراض ایک ابدی اصول ہے وہ ہر حال میں اختیار کیا جائے گا خواہ مسلمانوں کی تعداد کم ہو یا زیادہ۔ جس طرح نماز ہر حال میں پڑھی جائے گی خواہ مسلمان کم ہوں یا زیادہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2006 All issues

Printed page