Allon, Israel
الرسالہ، مئی ۲۰۰۶، صفحہ ۴۴
اسلامی جہاد کے نام پر جو متشددانہ عمل کیا جا رہا ہے اس کا جہاد سے کوئی تعلق نہیں۔ اِسی طرح اسلام میں عورت کے مقام کے بارے میں ان کے سوالات کا جواب دیا گیا۔
۲۰۔ ٹائمس آف انڈیا (بمبئی) کی نمائندہ مسز بیلا جے سنگھانی نے ۱۵ فروری ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ٹیلی فون پر ریکارڈ کیا گیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ڈنمارک کے اخبار Jyllands Posten میں شائع شدہ کارٹون ( ۳۰ ستمبر ۲۰۰۵) سے تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ اس قسم کے نزاعی مسائل پر اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اس کو پرامن انداز تک محدود رکھا جائے۔ کسی بھی حال میں تشدد کا طریقہ نہ اختیار کیا جائے۔ کارٹون کی حیثیت ایک تفنن آمیز آئٹم (comic item) کی ہے۔ لوگ ایسی چیزوں کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیتے۔ بالفرض اگر کچھ لوگوں کے نزدیک کارٹون قابل اعتراض تھا تب بھی اس کے لئے پُر شور احتجاج درست نہیں ہو سکتا۔ موجودہ زمانہ انٹرنیٹ کا زمانہ ہے۔ چنانچہ یہ کارٹون انٹرنیٹ پر آگیا۔ پہلے یہ قابل اعتراض آئٹم اگر ایک ملک کے تھوڑے سے لوگوں نے دیکھا تھا تو اب انٹرنیٹ کے ذریعے وہ تمام دنیا کے لوگوں تک آگیا۔
۲۱۔ بی سی لندن نے ۱۶ فروری ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو لندن اور دہلی کے درمیان ٹیلی فون پر ریکارڈ کیا گیا۔ انٹرویو لینے والے مسٹر راجیش جوشی تھے۔ سوالات کا تعلق مسلمانان ہند کے مسائل سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ تعلیم ہے۔ مسٹر محمد علی جناح نے مسلمانوں کی بہبود کے لئے چودہ نکاتی پروگرام بنایا تھا۔ اب گورنمنٹ نے ۱۵ نکاتی پروگرام بنایا ہے۔ مگر میرے نزدیک اس قسم کے پروگراموں کا کوئی خاص فائدہ مسلمانوں کو نہیں ملے گا۔ مسلمانوں کی ترقی کا سنگل پوائنٹ پروگرام تعلیم ہے۔ مسلمانوں میں اگر اچھی تعلیم آجائے تو بقیہ تمام مسائل اپنے آپ حل ہو جائیں گے۔
۲۲۔ سینئر انڈیا (Senior India) نئی دہلی کے نمائندہ مسٹر منوج کرشنا (Tel: 9868655357)نے نے ۱۶ فروری ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا موضوع تھا— ہندوستانی مسلمانوں میں تبدیلی کی لہر۔ سوالات کے دوران بتایا گیا کہ آزادی کے بعد ہندوستان کے مسلمان بے یقینی کی حالت میں مبتلا ہو گئے تھے۔ اُنھیں کوئی لائن آف ڈائریکشن دکھائی نہیں دیتی تھی۔ میں نے ۱۹۶۵ سے باقاعدہ طور پر اس معاملے میں مسلمانوں کو رہنمائی دینا شروع کی۔ لمبی جدوجہد کے بعد اب مسلمانوں میں بہت زیادہ شعوری بیداری آچکی ہے۔ پہلے وہ انڈیا کو ایک پرابلم کنٹری سمجھتے تھے۔ اب وہ اس ملک کو مواقع کی سرزمین سمجھتے ہیں اور تعلیم و ترقی کے ہر میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ مدارس کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا کہ مدارس کے نظام میں بھی بدلاؤ شروع ہو گیا ہے۔ تقسیم کی تحریک کے نتیجے میں مسلمان علیحدگی کو بڑی چیز سمجھ بیٹھے تھے۔ اب وہ جان رہے ہیں کہ زندگی میں سب سے بڑی چیز انٹرایکشن اور مقابلہ ہے۔
۲۳۔ نئی دہلی کے اسٹار نیوز (ٹی وی) نے ۱۷ فروری ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا دو انٹرویو لیا۔ ایک لائیو