Al-Risala · June 2006 · page 13

Today I have re-discovered Islam.

الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۱۳

اور اس کے بعد سوال اور جواب شروع ہوا۔ یہ پورا پروگرام انگریزی زبان میں تھا۔ میں نے اپنے خطاب میں پہلے اسلام کی اور پیغمبر اسلام کی مختصر تاریخ بیان کی۔ اس سلسلے میں میں نے کہا کہ اسلام سپر پر یلیجن نہیں ہے بلکہ وہ محفوظ (preserved) ریلیجن ہے۔ تمام پیغمبروں کا مذہب ایک ہی تھا، لیکن اسلام کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اب بھی اپنی ابتدائی صورت میں محفوظ ہے۔ اور اسی طرح قرآن کی اصل زبان بھی ایک زندہ زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔

اسلام کا تعارف پیش کرتے ہوئے میں نے بتایا کہ اسلام کی تعلیمات امن، اور روحانیت اور انسانیت کے ابدی اصولوں پر مبنی ہیں۔ اسلام مثبت انداز فکر (positive thinking) پیدا کرتا ہے۔ اسلام میں جنگ اور تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اسلام میں جنگ کی ایک ہی صورت جائز ہے اور وہ دفاعی جنگ ہے۔ خارجی حملے کی صورت میں اسلام میں جنگ کو جائز کیا گیا ہے لیکن یہ جنگ بھی صرف باقاعدہ طور پر قائم شدہ حکومت ہی کر سکتی ہے۔ غیر حکومتی تنظیموں کا جنگ کرنا اسلام میں جائز نہیں۔ غیر حکومتی تنظیموں کے لیے صرف پر امن جدوجہد ہے۔ اور اگر پر امن جد و جہد کے مواقع نہ ہوں تو ان پر فرض ہے کہ وہ صبر کریں اور خدا سے دعا کرتے رہیں۔

مذہبی اختلافات کے بارے میں تقریر کرتے ہوئے میں نے بتایا کہ اختلافات کو مٹانا ممکن نہیں۔ اس لیے اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود اتحاد کی راہیں تلاش کی جائیں اور وہ یہ ہے کہ ہر مذہبی گروہ دوسرے مذہبی گروہ کا احترام کرے۔ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے پر امن انداز میں ڈائیلاگ جاری رہنا چاہیے۔ اس سلسلے میں قرآن اور حدیث کے حوالوں اور صحابہ کے واقعات سے اس بات کو واضح کیا گیا۔

تقریر کے بعد حاضرین کی طرف سے بہت سے سوالات کیے گیے جن کا جواب دیا گیا۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی تقرير میں نے نہایت غور سے سنی۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ آج میں نے اسلام کو ری ڈسکور کیا:

Today I have re-discovered Islam.

‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues

Printed page