Al-Risala · June 2006 · page 12

Qur'an has to be re-revealed today.

الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۱۲

مسئلہ صرف بعد کو پیدا ہونے والے نظریات کا ہے جو اسلام کی صحیح نمائندگی نہیں کر رہے ہیں۔ ہمارا کام صرف یہ ہے کہ ہم ان پَر دوں کو ہٹائیں اور اسلام کو دوبارہ اس کی اصل صورت میں جان سکیں۔ اس لیے زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ قرآن کو پھر سے دریافت کرنے کی ضرورت ہے: Qur’an has to be re-discovered today. ایک صاحب کے سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ انسانوں میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک، وہ جو روایت پسند ہوتے ہیں۔ دوسرے وہ جن کو کرانت کاری (انقلابی) کہا جاتا ہے۔ روایت پسند آدمی کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ جس ماحول میں یا جن حالات میں رہتا ہے اس کے لحاظ سے اس کا ایک مزاج بن جاتا ہے۔ اس مزاج کے تحت، وہ اپنی ایک پُر عافیت زندگی بنا لیتا ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اس کو ایک محفوظ طریقہ سمجھتا ہے کہ وہ مذہبی معاملات میں زیادہ غور و فکر نہ کرے بلکہ حالات کے تحت، اس کا جوڈ ہن بن گیا ہے اس پر مطمئن ہو کر آسودگی کی زندگی گزارتارہے۔ کرانت کاری انسان کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ وہ ہر چیز کو عقلی طور پر سمجھنا چاہتا ہے۔ وہ ہر چیز کی معقولیت کو جاننا چاہتا ہے۔ روایت پرست انسان اگر اپنی عقل کو معطل کر لیتا ہے تو کرانت کاری انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر چیز کو عقل کی کسوٹی پر پرکھتا ہے۔ وہ کسی بات کو اس وقت تک نہیں مانتا جب تک وہ عقلی طور پر اس کے لیے قابل فہم نہ بن جائے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو معرفت کے اعلیٰ درجے حاصل ہوتے ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ آف گاندھین اسٹڈیز میں ایک خوبصورت ہال ہے۔ یہ ہال چاروں طرف سے کھلا ہوا ہے۔ اس کے چاروں طرف درختوں کا منظر ہے اور چڑیوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ اس ہال میں سیمینار کا آغاز ہوا۔ حاضرین میں زیادہ تر نوجوان لوگ تھے۔ کچھ خواتین بھی اس میں شامل تھیں ۔ پہلے ادارے کے چیرمین نے ابتدائی خطاب کیا۔ اس میں پروگرام کے بارے میں اور میرے بارے میں بتایا گیا تھا۔ اس کے بعد میرا خطاب شروع ہوا۔ ۲۵ جنوری ۲۰۰۶ کا پورا دن مجھے دیا گیا تھا۔ ایک سشن لِنچ سے پہلے ہوا، اور اور دوسرا سشن لِنچ کے بعد۔ دونوں سشن میں پہلے میری تقریر ہوئی،

‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues

Printed page