Today I have re-discovered Islam.
الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۱۵
جب کسی بحران کے نتیجے میں عورتیں سرپلس ہو جائیں تو اس مسئلے کا کوئی حل ڈھونڈنا پڑے گا۔ اور ایک سے زیادہ شادی اسی مسئلے کے حل کی ایک تدبیر ہے۔ میں نے کہا کہ جب عورتیں سرپلس ہو جائیں تو ایسا کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں معاشرے میں جنسی انار کی پھیل جائے گی۔
ایک خاتون نے سوال کیا کہ اسلام میں عورتوں کو برابر کے حقوق نہیں دیے گئے ہیں۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ عورتوں کو دبا کر رکھو۔ میں نے کہا کہ یہ صرف غلط فہمی کی بات ہے۔ یہ غلطی فہمی ایک غلط تقابل کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ مغربی تہذیب میں نسوانی آزادی کا مطلب بے قید آزادی سمجھا جاتا ہے۔ جو آخر کار صنفی انار کی تک پہنچ جاتی ہے۔ لوگ اس معیار کو لے کر اسلام کی تعلیمات کو دیکھتے ہیں۔ مگر صحیح بات یہ ہے کہ یہ معیار بذات خود درست نہیں اگر آزادی کو لے کر تقابل کیا جائے تو اسلام میں مکمل آزادی ملے گی۔ لیکن اگر بے قیدی کے تصور کو لے کر تقابل کیا جائے تو بلا شبہ اس قسم کی بے قید آزادی اسلام میں نہیں ہے۔
ایک خاتون نے یہ سوال کیا کہ کہا جاتا ہے کہ اسلام عورتوں کی تعلیم کا مخالف ہے۔ اسلام میں عورتوں کا کوئی رول نہیں اس لیے اسلام میں عورتوں کی تعلیم کو بھی پسند نہیں کیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات خلاف واقعہ ہے۔ پیغمبرِ اسلام کی اہلیہ عائشہ آج کل کی اصطلاح کے مطابق، ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون تھیں ۔ آپ ان کی لائف کو پڑھیں تو آپ کو حیرانی ہوگی کہ انھوں نے کتنے بڑے بڑے کام کیے ہیں اور کتنی اعلیٰ سطح پر اسلام کی نمائندگی کی ہے۔
پھر میں نے کہا کہ اس کا ایک عملی ثبوت خود یہاں بھی موجود ہے۔ میں ایک مذہبی مسلمان ہوں۔ اسلام میرا مشن ہے۔ یہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ میری لڑکی فریدہ خانم اور میری پوتی سعدیہ یہاں موجود ہیں۔ دونوں نے یہاں اسلام پر انگریزی میں تقریریں کی ہیں۔ کیا تعلیم کے بغیر یہ دونوں یہاں کے پروگرام میں حصہ لے سکتی تھیں۔ میں نے کہا کہ تعلیم زندگی کا ایک حصہ ہے۔ اور جو چیز زندگی کا حصہ ہو وہ یقینی طور پر اسلام کا بھی حصہ ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues