Today I have re-discovered Islam.
الرسالہ، جون ۲۰۰۶، صفحہ ۱۶
انسٹی ٹیوٹ آف گاندھیئن اسٹڈیز میں مقررہ پروگرام کے علاوہ بہت سے لوگوں سے ملاقات کا موقع ملا۔ ان لوگوں سے برابر باتیں ہوتی رہیں۔ ادارے کے ایک رُکن نے میرے ساتھ واردھا اور ناگپور کے درمیان سفر بھی کیا۔ ان لوگوں سے مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ موجودہ زمانے میں جو نئی چیزیں پیدا ہوئی ہیں، ان میں سے ایک وہ ہے جس کو کھلا پن (openness) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں پہلی بار ایسا ہوا کہ لوگ کھلے طور پر ڈائیلاگ کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب کہ قدیم زمانے میں لوگ صرف بند ذہن کے تحت سوچنا جانتے تھے۔ اس مزاج نے جو نئے مواقع پیدا کیے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہر مذہب کے لوگ دوسرے مذہب کو جاننا چاہتے ہیں۔ اس طرح موجودہ زمانے میں پہلی بار ساری دنیا میں رلجس انڈراسٹینڈنگ (religious understanding) کا ماحول بنا ہے۔
مجھے خدا کے فضل سے مسلسل اس جدید امکان سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملا ہے۔ اس سلسلے کا پہلا بڑا تجربہ مجھے اب سے ۷۲ سال پہلے پیش آیا۔ آریہ سماج (سیبو بارہ، ضلع بجنور) نے اپنے چونٹھ سالہ جشن جو بلی کے موقع پر آخر نومبر ۱۹۵۹ء میں ایک ہفتہ منایا تھا۔ اس موقع پر ۲۹ نومبر کو ایک بین مذاہب کا نفرنس ہوئی ۔ جس میں مختلف مذاہب کے علما نے شریک ہو کر اپنے اپنے مذہب کا تعارف پیش کیا۔ اس موقع پر اسلام کے نمائندے کی حیثیت سے میں نے وہاں ایک مقالہ پیش کیا۔ ۴۲ صفحات کا یہ مقالہ اسلام کا تعارف کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔
یہ جلسہ اصلاً مذاہب کے درمیان باہمی تعارف کے لیے کیا گیا تھا۔ لیکن لوگوں میں یہ مشہور ہو گیا کہ یہاں مذہبی مناظرہ ہونے والا ہے۔ لوگوں کو مناظرہ (debate) سے خاص دل چسپی ہوتی ہے۔ چنانچہ یہاں ہندو اور مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد اکٹھا ہوگئی۔ میں نے مقالے کی صورت میں اپنے خیالات پیش کیے۔ اس جلسے کے صدر بریلی کے ایک ہندو وکیل تھے۔ آخر میں اپنی صدارتی تقریر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جن لوگوں نے یہاں تقریر کی ان میں صرف ایک تقریر ایسی تھی جو پوری طرح واضح اور ہر ایک کے لیے قابل فہم تھی، اور یہ اسلام کے نمائندے کی تقریر تھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2006 All issues