Al-Risala · July 2006 · page 49

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۴۹

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۴۹

غلطی کا اعتراف

میں نے ایک صاحب سے کہا کہ اگر کسی معاملے میں آپ دیکھیں کہ ننانوے فیصد غلطی فریق ثانی کی ہے اور صرف ایک فیصد غلطی آپ کی ہے تب بھی آپ یہ مان لیجئے کہ ساری غلطی آپ ہی کی ہے۔ آپ کھلے طور پر فریق ثانی سے کہہ دیجئے کہ آپ صحیح ہیں، میں ہی غلطی پر تھا: You are right, I was worng. اعتراف کی اس روش کا فائدہ صرف یہ نہیں ہے کہ نزاع فوری طور پر ختم ہو جاتی ہے۔ اس کا اس سے بھی زیادہ بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کی یہ روش آپ کے ذہنی اور روحانی ارتقاء میں مددگار بنتی ہے۔ میرے تجربے کے مطابق، معروف قسم کی متصوفانہ ورزشوں کا کوئی تعلق تزکیۂ روحانی سے نہیں۔ تزکیہ کا سب سے بڑا ذریعہ اپنی غلطی کا کھلا اعتراف ہے۔ حضرت عمر کے اندر اپنی غلطی کے اعتراف کا مادہ اتنا زیادہ تھا کہ وہ مبالغہ آمیز طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرتے تھے۔ مثلاً وہ کہتے کہ: لولا فلان لهلک عمر (اگر فلاں شخص نہ ہوتا تو عمر ہلاک ہو جاتا)۔

حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑا تزکیہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر حقیقی تواضع کی صفت پیدا ہو۔ اس کے اندر سے کبر کا مزاج نکل جائے۔ غلطی کے اعتراف کا مزاج آدمی کے اندر یہی اعلیٰ صفت پیدا کرتا ہے۔ تزکیہ کا سب سے بڑا کورس یہی ہے۔

ایک صاحب سے گفتگو کے دوران میں نے اپنی کتاب ’’اسلامی زندگی‘‘ (صفحہ ۱۰) میں شائع شدہ خلیفۂ دوم عمر فاروق کے ایک قول کا حوالہ دیا۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ کوئی بڑا کام کرنے کے لیے اہل صرف وہ شخص ہوتا ہے جو مجموعۂ تضادات (mixture of opposites) ہو۔ مثلاً نہایت اعلیٰ ذہن کا حامل ہونے کے باوجود وہ آخری حد تک متواضع (modest) ہو ۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ عالم حقائق (universe of facts) اتنا زیادہ وسیع ہے کہ کبھی کوئی شخص اس کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ مگر حقائق کا ادراک کرنے کے لیے صرف اعلیٰ ذہن

‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues

Printed page