Al-Risala · July 2006 · page 3

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۳

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۳

کافی نہیں۔ اسی کے ساتھ کامل تواضع لازمی طور پر ضروری ہے۔ کامل تواضع اس بات کی ضمانت ہے کہ اس کے لرننگ پراسس (learning process) پر کوئی فل اسٹاپ نہ آئے۔ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ کبر، تعلّم (learning) کے عمل کو روک دیتا ہے۔ اس کے برعکس، تواضع تعلّم کے عمل کو مسلسل طور پر جاری رکھتا ہے۔ میں اپنے تجربے سے یہ سمجھتا ہوں کہ ذہنی ارتقاءء کے لیے سب سے زیادہ ضروری شرط یہ ہے کہ آدمی ہر لمحہ یہ کہنے کے لیے تیار ہو کہ میں غلطی پر تھا: I was wrong. غلطی کو فوراً مان لینا، آدمی کے علم میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس، جس آدمی کے اندر اپنی غلطی کو ماننے کا مزاج نہ ہو وہ ذہنی جمود کا شکار ہو جائے گا، اس کے اندر ذہنی ارتقا کا سفر کبھی جاری نہیں رہ سکتا۔

اعتراف کے ذریعے فکری ارتقاء کا جاری رہنا کوئی پر اسرار بات نہیں۔ بلکہ وہ ایک معلوم بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کا دماغ مختلف معلومات کا جنگل ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر آدمی کنفیوژن میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ صحیح اور غلط کو ایک دوسرے سے الگ الگ کر کے دیکھ نہیں پاتا۔ یہ چیز آخر کار آدمی کو تشکیک تک لے جاتی ہے۔

اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ جب بھی مطالعہ یا ڈسکشن کے درمیان آدمی پر یہ واضح ہو کہ اس کے دماغ میں فلاں بات جو پڑی ہوئی ہے وہ غلط ہے، اس کو چاہیے کہ وہ اسی وقت کھلے طور پر اس کو مان لے کہ میں اس معاملے میں غلطی پر تھا۔ اسی کا نام اعتراف ہے۔ اس اعتراف کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے ذہن میں کرکشن اور تصحیح کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ ایک غلط بات جو اس کے ذہن میں صحیح بات کی حیثیت سے موجود تھی اب اس کا ذہن غلط مان کر اس کو غلطی کے خانے میں ڈال دیتا ہے۔ جب کہ اس سے پہلے وہ صحیح کے خانے میں پڑی ہوئی تھی۔ عام حالت میں یہ ہوتا ہے کہ صحیح آئٹم اور غلط آئٹم دونوں انسان کے دماغ میں ملے جلے رہتے ہیں۔ غلطی ماننے کا مزاج یہ کرتا ہے کہ جو بات صحیح ثابت نہ ہو اس کو غلط کے خانے میں ڈالتا رہتا ہے، اس طرح

‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues

Printed page